بگٹی اور مینگل پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ رہنما اکبر بگٹی اور عطااللہ مینگل سمیت گیارہ افراد کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پاکستان کی وزراتِ داخلہ کے ایک اعلامیے کے مطابق جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ اکبر بگٹی، آغا شاہد بگٹی، عطااللہ مینگل سمیت اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی، پوتے میر علی عرف عبدو بگٹی، بھتیجے مرتضیٰ بگٹی، بہو رضیہ سلطانہ بگٹی، فوزیہ بگٹی، بلوچ ٹی وی کے ایم ڈی منیر مینگل اور ہمایوں خان مری کے نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ میں شامل کر لیئے گئے ہیں۔ دو اپریل کو جاری ہونے والے اس اعلامیے کی کاپی وزیر اعظم سیکریٹریٹ، جی ایچ کیو، ملٹری انٹیلیجنس، وفاقی تحقیقاتی ادارے، قومی احتساب بیورو اور آئی ایس آئی کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔ سردار عطااللہ مینگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس پابندی کی تصدیق کی اور کہا کہ حکومت نے یہ قدم ملٹری انٹیلی جنس کی سفارش پر اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کو فوج ہی چلا رہی ہے، اس لیئے ہر حکم ان ہی کا چلتا ہے۔ اس سے قبل اختر مینگل پر بھی ایسی پابندی عائد کی گئی تھی مگر عدالت نے اسے رد کیا۔ عدالت کے حکم کے باوجود ان پر دوبارہ پابندی عائد کر دی گئی۔ عطااللہ مینگل کے مطابق ان کے پاس برطانوی شہریت بھی ہے، مگر وہ یہاں ہی رہیں گے اور کہیں نہیں جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ہفتے کے روز یہ خط ملا ہے جسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اکبر بگٹی ایک طویل عرصے سے گوریلا کارروائیوں میں سرگرم ہیں جبکہ سردار عطااللہ مینگل پر ایک مہینے قبل ملٹری انٹیلیجنس کے دو اہلکاروں پر تشدد اور اغوا کے مقدمات درج کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد کراچی میں سردار عطااللہ مینگل کے گھر کا ایک ہفتے محاصرہ کیا گیا۔ | اسی بارے میں اکبر بگٹی پر مزید مقدمات درج22 February, 2006 | پاکستان بلوچستان: ایک ہلاک، سات زخمی 09 March, 2006 | پاکستان بگٹی کے پوتے کی جائیداد ضبط 16 March, 2006 | پاکستان نیا بگٹی دستہ’وطن‘ کی طرف25 March, 2006 | پاکستان کڑی حفاظت میں بگٹیوں کی واپسی26 March, 2006 | پاکستان برہمداغ اور آغا شاہد کیلیے وزارتیں28 March, 2006 | پاکستان ’ہمارے نہیں، جرائم پیشہ ہیں‘09 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||