نیا بگٹی دستہ’وطن‘ کی طرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شورش زدہ علاقے ڈیرہ بگٹی سے آٹھ برس قبل قبائلی جھگڑوں کے نتیجے میں مبینہ طور پر نکالے گئے بگٹیوں کا ایک اور جتھہ اطلاعات کے مطابق سنیچر کے روز ڈیرہ غازی خان سے اپنے آبائی علاقے کے لیئے روانہ ہوگا۔ اس سلسلے میں ڈیرہ غازی خان کی ضلعی انتظامیہ نے نجی شعبے کے تحت چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی نوے کے قریب مختلف چھوٹی بڑی گاڑیوں کو جن میں ویگنیں، بسیں اور ٹرک شامل ہیں، قبضے میں لے کر پولیس لائنز میں کھڑا کردیا ہے۔ بگٹی قبیلے کی ذیلی شاخ رائجہ سے تعلق رکھنے والے سولہ سو کے لگ بھگ مرد، عورتیں اور بچے میر احمدان بگٹی کی سربراہی میں اور نیم فوجی دستوں کی نگرانی میں انہیں گاڑیوں کے ذریعے ڈیرہ بگٹی کی طرف روانہ ہونگے۔ کہا جاتا ہے کہ نواب اکبر بگٹی بھی رائجہ شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میر احمدان بگٹی سال انیس سو نواسی سے انیس سو تراسی تک مری بگٹی ایجنسی ضلع کونسل کے اس وقت چیئرمین رہے جب کوہلو اور ڈیرہ بگٹی ایک ہی ضلعے کا حصہ تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میر احمدان نے کہا کہ اپنے مقام کی طرف واپسی پر وہ اور ان کے ساتھی بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو دسمبر انیس سو ستانوے میں نواز شریف کی حکومت نے (نواب) اکبر بگٹی کی سیاسی مخالفت کرنے کی پاداش میں ’جلا وطن‘ کر دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ تب سے وہ لوگ ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں خانہ بدوشوں کی سی زندگی گذار رہے تھے۔
میر احمدان کا کہنا تھا کہ ان کا واپسی کا سفر خطرات سے خالی نہیں ہے کیونکہ ان کے گھر ڈیرہ بگٹی شہر میں نواب (اکبر بگٹی) کے قلعے کے قریب ہی واقع ہیں جبکہ مسوری بیکڑ اور کلپر سوئی میں رہتے ہیں۔’لیکن وطن واپسی کے لیئے ہم ہر قیمت دینے کو تیار ہیں‘۔ پچھلے ماہ فروری میں کلپر اور مسوری قبائل سے تعلق رکھنے والے تین چار ہزار کے قریب افراد کو بھی سرکاری سرپرستی میں پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع سے ان کے آبائی علاقوں میں منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم مسوری قبیلے کے سربراہ میر غلام قادر اور کلپر قبیلے کے وڈیرا خان محمد ابھی تک بالترتیب ڈیرہ غازی خان اور سکھر میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ میر احمدان نواب اکبر بگٹی کے علاقائی مخالفوں میں سے پہلی سرکردہ شخصیت ہیں جو کئی برسوں بعد اس وقت ڈیرہ بگٹی واپس جارہے جب وہاں پہلے ہی نواب بگٹی کے وفادار قبائلیوں اور ریاستی اداروں کے درمیان مسلح تصادم زوروں پر ہے۔ تئیس مارچ کو لاہور میں مینار پاکستان پر (حکومتی) پاکستان مسلم لیگ کےتحت ہونے والے جسلہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ بلوچستان کے ’شورش پسند‘ سرداروں کے دن گنے جا چکے ہیں اور آئندہ چند دنوں میں ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کا آغاز کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کے ان سرداروں کی طرف سے زبردستی نکالے جانے والے لوگوں نے حکومت سے وطن واپسی کے لیئے رابطہ کر رکھا ہے اور بہت جلد یہ لوگ اپنی زمینوں کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیں گے۔ تاہم نواب بگٹی کے ترجمان اور داماد آغا شاہد بگٹی ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کلپر، مسوری اور میر احمدان کے ساتھیوں کو ’نیشنل جرگہ‘ کے فیصلے پر ڈیرہ بگٹی سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔لیکن نواب کے مخالفین کا کہنا ہے کہ نیشنل جرگہ نام کی کوئی چیز وجود ہی نہیں رکھتی اور انہیں بزور طاقت در بدر کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’کلپروں کو فوج لائی ہے، بگٹی کو بھاگنا ہوگا‘05 March, 2006 | پاکستان کلپر قبیلے کی سوئی میں واپسی30 January, 2006 | پاکستان حکومت قبائلیوں سے مذاکرات کیوں نہیں کرتی؟22 March, 2006 | پاکستان کارروائیاں جاری رہیں گی: شیرپاؤ20 March, 2006 | پاکستان بلوچستان: دھماکے، تین بچے زخمی22 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||