کارروائیاں جاری رہیں گی: شیرپاؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے کہا ہے کہ قبائلی علاقے وزیرستان اور صوبہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور جو بھی پاکستان کی خود مختاری کو تسلیم نہیں کرے گا، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کرے گا اور ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ ڈالے گا اس کا جواب دیا جائے گا۔ پیر کو پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ میں وزیرستان اور بلوچستان پر بحث کے بعد بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیرستان میں امن معاہدے کے باوجود وہاں مقیم غیر ملکیوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے جس میں بھاری تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وزیرستان میں کم از کم اجتماعی نقصان کی پالیسی پر عمل پیرا ہے مگر حکومت کسی کو بھی پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیےاستعمال نہیں کرنے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان میں حکومت نے کئی غیر ملکیوں جن میں شیخ عبدالرحمن، حمزہ ربیعہ اور ابو شعیب ثمر قند سمیت چار ایسے دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے جن کے سروں پر انعام مقرر تھا۔ وزیر داخلہ کے مطابق وزیرستان میں غیر ملکیوں میں ترک، چینی اور ازبک باشندے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر کے مطابق گذشتہ ہفتے وزیرستان میں انتیس غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ امریکی صدر بش کے دورے سے قبل وزیرستان میں ہونے والے حملوں کا تعلق امریکی صدر کے دورے سے ہے۔انہوں نے کہا کہ جونہی پاکستانی اداروں کو شواہد ملیں گے وہ کارروائی کریں گے۔
بلوچستان کے بارے میں آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ گذشتہ تین ماہ میں بلوچستان میں سینتالیس شہری مارے گئے، ایک سو پینسٹھ راکٹ حملے کئے گئے، چھیالیس بم دھماکے ہوئے اور چھتیس بارودی سرنگیں پھٹیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ستر میں سے چھیاسٹھ سردار حکومت کے ساتھ ہیں اور صوبے میں ترقیاتی کاموں کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ فائرنگ کرنے اور فراری کیمپ چلانے سے کوئی اپنے مسائل حل نہیں کروا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت بات چیت صرف ان لوگوں سے کرے گی جو ملک کو ترقی کی راہ پر چلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وزیر داخلہ کے بیان سے قبل حزب اختلاف اور حکومتی سینیٹروں نے وزیرستان اور بلوچستان کے مسئلے پر تقاریر کیں اور ان مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ خصوصا حزب اختلاف کے سینیٹروں نے خبر دار کیا کہ وزیرستان اور بلوچستان میں قوت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی نے کہا کہ اس بات کی جانچ ہونی چاہیے کہ وزیرستان میں اسلحہ کہاں سے آ رہا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ وزیرستان میں افغانستان میں جہاد کے لیےاشتہارات چھاپے جا رہے ہیں جن میں لوگوں کو اس جہاد کے لیےبھرتی ہونے کی ترغیب کے علاوہ اسلحے اور چندے کی فراہمی کی اپیل بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے پر پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر عمل نہیں کیا گیا اور کوئی مخفی ہاتھ اس مسئلے کے سیاسی حل میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔ قائد ایوان وسیم سجاد نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی مدد کے بغیر حکومت بلوچستان کے مسئلے پر کوئی آئینی ترمیم نہیں لا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیےحکومت اور حزب اختلاف کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ | اسی بارے میں بلوچستان اسمبلی، اجلاس پھر ملتوی13 March, 2006 | پاکستان بلوچستان میں مظاہرے اور گرفتاریاں03 March, 2006 | پاکستان بلوچستان میں دو ٹرینوں پر حملہ27 February, 2006 | پاکستان بلوچستان حملے میں فوجی ہلاک22 February, 2006 | پاکستان وزیرستان: ایف ایم سٹیشن تباہ20 March, 2006 | پاکستان شمالی وزیرستان: بم سےفوجی گاڑی تباہ 20 March, 2006 | پاکستان ’وزیرستان، طالبان نہیں امن کمیٹی‘16 March, 2006 | پاکستان وزیرستان: طالبان دفتر کھولیں گے 14 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||