BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 February, 2006, 10:44 GMT 15:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان حملے میں فوجی ہلاک

بلوچ قوم پرست
بلوچستان میں دسمبر سے دو طرفہ مسلح کارروایاں جاری ہیں
صوبہ بلوچستان کے ضلع بولان میں ڈھاڈر کے قریب نا معلوم افراد نے فوجیوں کی ایک گاڑی پر حملہ کیا ہے جس میں ایک فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

لیویز اہلکاروں نے بتایا ہے کہ بدھ کی صبح فوجی سبی کی طرف جا رہے تھے کہ پنجرہ پل کے مقام پر پہاڑیوں سے نا معلوم افراد نے فائرنگ شروع کر دی جس میں ایک فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں جنہیں کوئٹہ چھاؤنی کے ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یاد رہے گزشتہ ماہ اس علاقے میں بلو چستان ہائی کورٹ کے ایک جج پر حملہ کیا گیا تھا جو ایک قافلے کی صورت میں جا رہے تھے لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔

رازق بگٹی نے بتایا ہے کہ فوجیوں کی نقل و حمل معمول کی کارروائی ہے اور ان فوجیوں میں دھوبی اور باورچی شامل تھے جن پر حملہ کیا گیا ہے۔

صوبہ بلوچستان کے علاقے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں سکیورٹی فورسز نے سترہ دسمبر سے کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ اس کارروائی میں مری اور بگٹی قبائل کے مطابق دو سو کے لگ بھگ افراد ہلاک اور چار سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن سرکاری سطح پر ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں
بلوچستان کے ویرانوں میں
13 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد