کڑی حفاظت میں بگٹیوں کی واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیڑھ ہزار سے زائد ایسے بگٹی قبائلی اتوار کو فوج اور نیم فوجی ملیشیا کی زبردست حفاظت میں ڈیرہ بگٹی واپس پہنچ گئے ہیں جہاں سے نو برس پہلے انہیں نواب اکبر بگٹی کی ناراضی کے باعث زبردستی بے دخل کردیا گیا تھا۔ واپس آنے والے قبائلی میر احمدان بگٹی کے اہل خانہ، عزیزواقارب اور جاننے والے ہیں اور یہ تمام افراد گزشتہ نو برس سے ملتان میں رہ رہے تھے۔ ضلع کونسل ڈیرہ بگٹی کے سابق ناظم میر احمدان بگٹی قبیلے کے سردار نواب اکبر بگٹی کے کزن ہیں اور ان کا تعلق بھی بگٹی قبیلے کی رائجا شاخ سے ہی ہے جس سے خود نواب بگٹی کا بھی تعلق ہے۔ بگٹی قبائل میں کلپر، رائجا اور مسوری نام کی تین اہم شاخیں ہیں اور فی الوقت سرداری رائجا شاخ میں ہی چل رہی ہے۔ میر احمدان بگٹی کو ان کے مسلح حامیوں سمیت گزشتہ روز سو کے قریب ویگنوں اور ٹرکوں کے قافلے میں لا کر عارضی طور پر کشمور کی چھاؤنی میں ٹھہرایا گیا تھا جہاں سے اتوار کی سہہ پہر انہیں زبردست حفاظتی انتظامات میں ڈیرہ بگٹی میں ان کے گھروں میں لا کر واپس بسایا گیا ہے۔ کشمور سے براستہ سوئی ڈیرہ بگٹی تک تمام راستے میں سڑک کے دونوں جانب نہ صرف فرنٹئیر کونسٹیبلری اور پولیس کے اہلکار تعینات تھے بلکہ پہاڑیوں پربھی حفاظتی دستوں نے مورچے قائم کیے ہوئے تھے جبکہ فضا میں گن شپ ہیلی کوپٹر بھی چکر لگارہے تھے۔ تاہم اس قدر سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود ایک مقام پر پورے قافلے کو خاصی دیر اس اطلاع پر رکنا پڑا کہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے درمیان قبائلی جنگجوؤں اور فوج کے درمیان تصادم ہوا ہے۔
بعد میں فرنٹئیر کونسٹیبلری کے کرنل فرقان نے ڈیرہ بگٹی میں تصادم کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس تصادم میں کم ازکم ایک سیکیورٹی اہلکار اور دو حملہ آور ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ مزید کچھ مشتبہ حملہ آور گرفتار بھی کیے گئے ہیں۔ میر احمدان بگٹی کی واپسی کے لیے حکام نے ڈیرہ بگٹی میں عام لوگوں کی جانب باقاعدہ ایسے بینر لگائے تھے جن پر ان کے خیرمقدم کے ساتھ ساتھ نواب اکبر بگٹی کے خلاف نعرے بھی درج تھے۔ تاہم بگٹی مہاجرین کی واپسی کے وقت ڈیرہ بگٹی مکمل طور پر ویران تھا۔ دکانیں بند اور سڑکیں سنسان تھیں اور وہاں صرف اور صرف سیکیورٹی اداروں کے اہلکار ہی دکھائی دے رہے تھے۔ حکام کے مطابق حالات معمول پر آرہے ہیں اور شہر چھوڑ جانے والی دس فیصد آبادی واپس بھی آچکی ہے لیکن بگٹی مہاجرین کےقافلے کے ساتھ جانے والے صحافیوں کو اس کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔ خود میر احمدان بگٹی نے واپسی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گو وہ تیرہ برس سے اپنے گھروں سے دور ہیں لیکن ان کو نکالنے کے ذمہ دار صرف نواب بگٹی نہیں بلکہ ان کے ہاتھ حکومتیں اور سرکاری ادارے بھی برابر کے قصوروار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ماضی کے برعکس حکمرانوں کی وقتی سیاسی مصلحتیں آڑے نہیں آئیں تو وہ اب ڈیرہ بگٹی چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ احمدان بگٹی کے قافلے کو لانے والی ویگنوں اور باربردار ٹرکوں کے ڈرائیوروں نے شکایت کی ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے زبردستی ان کو پکڑلیا ہے اور اب ان سے بیگار لی جارہی ہے۔تاہم فوجی حکام نے اس کی تردید کی ہے کہ وہ ویگنوں اور ٹرکوں سے بیگار لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق تمام لوگوں کو معاوضہ دیا جارہا ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان: سکیورٹی فورسز پر حملہ26 March, 2006 | پاکستان نیا بگٹی دستہ’وطن‘ کی طرف25 March, 2006 | پاکستان کوہلو میں دھماکہ 1 ہلاک 13 زخمی23 March, 2006 | پاکستان بلوچستان: دھماکے، تین بچے زخمی22 March, 2006 | پاکستان عرس دھماکہ: دو کو سزائے موت22 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||