BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 March, 2006, 09:27 GMT 14:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: سکیورٹی فورسز پر حملہ
ڈیرہ بگٹی
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور قبائلی جنگجوؤں کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔
بلوچستان کےضلع ڈیرہ بگٹی میں حکام نے حکام نے دعوی کیا فوجی چوکی پر قبائلی جنگجوؤں کے ایک حملے میں ایک فوجی سمیت تین لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کےمطابق قبائلی جنگجوؤں نے ایک چیک پوسٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کے نزدیک سے بگٹی قبائل کا وہ قافلہ گزرنے والا تھا جس کو پاکستان فوج کی نگرانی میں بگٹی علاقے میں واپس لایا جا رہا ہے جہاں سے ان کو نوے کی دہائی میں نکال دیا گیا تھا۔

فوج اور جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں دو قبائلی جنگجو اور ایک فوجی ہلاک ہو گیا۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق مطابق سوئی کے علاقے میں ایک شخص اس وقت ہلاک ہو گیا جب وہ بارودی سرنگ بچھانے کے بعد وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ خود اس بارودی سرنگ کا نشانہ بن گیا۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ضلع بگٹی کے ضلعی افسر عبد الصمد لاسی کے مطابق فوجی چوکی پر اس وقت حملہ کیا گیا جب ایک ہزار اشخاص پر مشتمل بگٹی مہاجروں کا قافلہ وہاں سے گزرنے والا تھا۔

حکومت بگٹی قبیلے کے ان لوگوں کو واپس اپنے علاقے میں بسانے کی مدد کر رہی ہے جن کو دس سال پہلے سردار اکبر بگٹی کے ساتھ جھگڑے کی ساتھ اختلافات کی وجہ سے علاقہ چھوڑنا پڑا تھا۔

مہاجر بگٹیوں کے قافلے پاکستانی فوج کی حفاظت میں واپس جا رہا ہے۔ پاکستانی فوج کا وہ دستہ جو مہاجر بگٹیوں کی حفاظت پر معمور ہے اس کو ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل ہے۔

اس قافلے میں شامل ایک فوجی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مشتبہ حملہ آوروں کے خلاف گن شپ ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

دریں اثنا لسبیلہ میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف کی نجی رہائش گاہ کے قریب دو دھماکے ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں بی بی سی پشتو سروس کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق دھماکے مقامی وقت کے مطابق سہ پہر ساڑھے تین اور چار بجے کے درمیان ہوئے۔

نامہ نگار کے مطابق دھماکوں کے وقت وزیر اعلیٰ رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے۔ دھماکوں سے گھر کی ایک دیوار کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اسی بارے میں
ڈیرہ بگٹی میں جھڑپیں جاری
01 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد