بھاری فوجی نقصان کا دعوٰی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکبر بگٹی کا کہنا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں حالیہ آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ حکومتِ بلوچستان کے ترجمان نے اس دعوے کومکمل طور پر غلط قرار دیا ہے۔ بی بی سی سے بات چیت میں اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ تین روزہ کارروائی کے دوران تیس سے پینتیس فوجی کمانڈو ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو ہیلی کاپٹروں کو مکمل طور پر اور تین کو جزوی طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس دعوے پر صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ گزشتہ تین دن میں ہونے والے آپریشن میں کسی قسم کی دو بدو لڑائی نہیں ہوئی اور دور مار اسلحہ اور توپخانہ استعمال کیا گیا ہے اس لیئے کسی فوجی کے ہلاک یا زخمی ہونے کا امکان ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ’ یہ کہنا کہ دو ہیلی کاپٹر گرائے گئے ہیں بالکل غلط ہے کیونکہ اس پوری کارروائی میں ہیلی کاپٹر صرف سکیورٹی اہلکاروں کو جھڑپیں ختم ہونے کے تین چار گھنٹے بعد جائے وقوع پر پہنچانے کے لیئے استعمال کیئے گئے تھے‘۔ رازق بگٹی نے دعوٰی کیا کہ قبائلی’ کمیونیکیشن نیٹ ورک‘ سے حاصل کی جانے والی اطلاعات کے مطابق حالیہ آپریشن میں اکتیس بلوچ قبائلی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فوج کو کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔ بی بی سی سے بات چیت کے دوران نواب بگٹی کا کہنا تھا کہ تین جون کی صبح تین جیٹ طیاروں نے اس مقام پر بمباری کی جہاں پر وہ قیام پذیر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ طیارے آدھے گھنٹے تک بمباری کرتے رہے۔ پھر انیس کے قریب ہیلی کاپٹر وہاں آئے جن میں گن شپ ہیلی کاپٹر بھی شامل تھے۔گن شپ ہیلی کاپٹر فضا میں موجود رہے جبکہ دیگر ہیلی کاپٹروں سے فوجی ہماری رہائش گاہ کے اردگرد سات مقامات پر اترے جس کے بعد ہیلی کاپٹروں اور فوجیوں نے فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا جو شام ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر چلےگئے تاہم ہمارے گرد فوجیوں کا گھیرا برقرار رہا۔ تاہم رات میں ہمارے لوگوں نے دیگر راستوں سے پہنچ کر مجھے فوج کے گھیرے سے نکال لیا اور محفوظ مقام پر لے آئے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ پہلے دن کی کارروائی میں ان کا ایک آدمی بم کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوا جبکہ دوسری جانب کا خاصا نقصان ہوا۔ اکبر بگٹی کے مطابق اس کارروائی کے دوران فوج کا ایک ہیلی کاپٹر اپنے مسافروں سمیت تباہ کر دیا گیا جبکہ تین ہیلی کاپٹروں کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں تیس سے پینتیس پاکستانی کمانڈوز مارے گئے۔ نواب بگٹی کے مطابق دوسرے دن نسبتاً خاموشی رہی تاہم بدھ کو دوبارہ بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا اور شیلنگ کی گئی۔ جوابی کارروائی میں مزید ایک ہیلی کاپٹر گرایا گیا اور اتنی تعداد میں فوجی زخمی ہوئے کہ سوئی چھاؤنی کے ہسپتال میں خون ختم ہوگیا۔ نواب بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اکتیس بلوچوں کو ہلاک کرنے کا دعوٰی بے بنیاد ہے اور ان کا ایک بھی آدمی اس آپریشن کے دوران نہ زخمی ہوا اور نہ ہی گرفتار ہوا۔ تاہم فوج نے مری قبیلے کے نوضعیف افراد،عورتوں اور بچوں کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوئی میں تین دن سے کرفیو نافذ ہے اور کسی کو شہر سے باہر نہیں جانے جا دیا رہا۔
اس سوال پر کہ اس کارروائی سے فوج کا مقصد کیا ہے نواب بگٹی کا کہنا تھا کہ’میں اس کارروائی کا ٹارگٹ ہوں اور یہ سلسلہ گزشتہ سال سترہ مارچ سے جاری ہے‘۔ بلوچستان کے بنیادی جھگڑے پر بات کرتے ہوئے نواب بگٹی نے کہا کہ اصل مسئلہ وسائل اور حقِ حاکمیت کا ہے اور اگر یہ حل ہو جائے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ ہم آسمان تو نہیں مانگ رہے بلکہ بلوچوں کا قومی حق مانگ رہے ہیں۔ ہمیں اپنے وسائل، اپنا ساحل درکار ہے۔ ہمیں اپنے آپ پر حکومت کرنے کا مکمل حق حاصل ہونا چاہیے کیونکہ اگر میری قسمت کا فیصلہ ہی کوئی اور کرے تو باقی چیزیں بے معنی رہ جاتی ہیں‘۔ بات چیت کے سوال پر نواب بگٹی کا مؤقف تھا کہ’بات چیت کس بارے میں کی جائے، ہم پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ ہمارا شہر تباہ کر دیا گیا اور لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ میرا گھر لوٹ لیا گیا اور اس سامان کو مالِ غنیمت کے طور پر تقسیم کیا گیا اور ان حالات میں کیا بات ہو سکتی ہے‘۔ |
اسی بارے میں فضائی حملوں کے بعد خاموشی06 July, 2006 | پاکستان ’ڈیرہ بگٹی پر فضائی حملے‘05 July, 2006 | پاکستان بلوچستان آپریشن میں اکتیس ہلاک05 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||