BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 July, 2006, 16:05 GMT 21:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈیرہ بگٹی پر فضائی حملے‘

ڈیرہ بگٹی
جھڑپوں میں دونوں جانب کا نقصان ہوا ہے:شاہد بگٹی
صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی سےبدھ کو پھر ہیلی کاپٹر حملوں اور بگٹی مسلح قبائل کی سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

تاہم اب بھی سرکاری سطح پر اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا۔

جمہوری وطن پارٹی کے قائدین نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی دو روز پہلے ڈیرہ بگٹی میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں بال بال بچے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ علاقے پر بیس کے قریب ہیلی کاپٹر پروازیں کر رہے ہیں اور پیرکوہ اورگوڑی کے علاقے پر حملے کیے گئے ہیں اور بعض مقامات پر جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں سکیورٹی فورسز کا نقصان ہوا ہے اور ایک ہیلی کاپٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کے قائدین سینیٹر آغا شاہد بگٹی، سابق سینیٹر امان اللہ کنرانی اور سابق وزیراعلٰی ہمایوں خان مری نے مشترکہ اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں فوجی کارروائی بند کی جائے۔

 فورسز نے نواب اکبر بگٹی کا محاصرہ کر لیا تھا لیکن بگٹی قبائل نے محاصرہ توڑ کر نواب اکبر بگٹی کو دوسری جگہ منتقل کر دیا۔
شاہد بگٹی

آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ تین روز میں فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سکیورٹی فورسز کو زمین پر اتارا گیا جہاں بگٹی قبائلیوں سے ان کی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوموار کو صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک ان حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور اس دوران فورسز نے نواب اکبر بگٹی کا محاصرہ کر لیا تھا لیکن بگٹی قبائل نے محاصرہ توڑ کر نواب اکبر بگٹی کو دوسری جگہ منتقل کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کا جانی نقصان بھی ہوا ہے جبکہ کچھ بگٹی قبائلی زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کو منشیات کی سمگلنگ پر کڑی نگرانی کے لیئے جو طیارے دیئے تھے وہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں استعمال ہو رہے ہیں۔

سرکاری سطح پر ان واقعات کی تصدیق نہیں کی جا رہی ہے اور بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں جبکہ فرنٹیئئر کور کے حکام کا کہنا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں قومی تنصیبات کی حفاظت کے لیئے معمول کی کارروائی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں
کوہلو: کشیدگی جاری
25 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد