BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 03 June, 2006, 13:52 GMT 18:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پائپ لائن میں دھماکوں سے خسارہ
وزیر اعلٰی بلوچستان جام محمد یوسف نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں گیس پائپ لائن پر دھماکوں کی وجہ سے صوبے کو اس سال گیس رائلٹی میں ڈیڑھ ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیر اعلٰی بلوچستان جام محمد یوسف نے کہا کہ صوبے میں ہر جگہ گیس پائپ لائنوں کو اڑایا جا رہا ہے جس سے گیس ضائع ہوتی ہے اور اس کی مرمت پر کافی اخراجات آتے ہیں۔ اس لیئے اس مرتبہ گیس کی رائلٹی میں صوبے کو ڈیڑھ ارب روپے کم ملیں گے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا گیس پائپ لائن پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کا ارادہ ہے، تو انھوں نے کہا کہ سینکڑوں میل لمبی گیس پائپ لائن کے ہر انچ پر اگر فورسز کو تعینات کیا جائے تو شاید اس پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن ایسا کرنا بہت مشکل نظر آتا ہے۔

سوئی سے گیس کی پیداوار انیس سو باون میں شروع ہوئی لیکن اس طرح کے حملے ماضی میں پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ وزیر اعلٰی کا کہنا ہے کہ اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں۔

کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں مبینہ فوجی کارروائی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی ان کے لیے معتبر شخصیت ہیں اور وہاں ان کے کئی حمایتی ہیں تاہم وہاں صورتحال معمول پر لانے کے لیئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ آج بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے وزیر خزانہ سے قومی مالیاتی کمیشن میں صوبے کا حصہ اور مالی خسارے کے بارے میں سوالات اٹھائے۔

اس سلسلے میں وزیر خزانہ سید احسان شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت سٹیٹ بینک سے اب تک تقریباً چودہ ارب روپے اوور ڈرافٹ لے چکی ہے جس پر جرمانے لگے ہیں اور تقریباً دو سو تریسٹھ ملین روپے گزشتہ سال ستمبر تک سود ادا کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آئندہ سال کا بجٹ اس مہینے کی بیس تاریخ یا اس کے کچھ دن بعد تک پیش کر دیا جائے گا۔ یہ بجٹ ٹیکس فری اور خسارے کا بجٹ ہو گا۔

سید احسان شاہ نے گیس ڈیویلپمنٹ سرچارج کے حوالے سے کہا کہ اس سال شاید سندھ کا حصہ چھ سے سات فیصد تک بنے لیکن گزشتہ ادوار میں تمام حصہ بلوچستان کا تھا جو چودہ سے پندرہ ارب روپے بنتا ہے اور یہ سب صوبہ بلوچستان کو ملنا چاہیئے۔ انھوں نے وفاقی حکومت سے صوبے کے لیئے ایک بڑے پیکچ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں
سوئی: 2 فوجیوں سمیت 6 ہلاک
05 February, 2006 | پاکستان
پنجاب سےگیس کی ترسیل بند
26 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد