سوئی: 2 فوجیوں سمیت 6 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر سوئی میں سنیچر کی جھڑپوں میں دو فوجیوں سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ لوٹی گیس پلانٹ کا ایک اور کنواں بھی حملے کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ کہ سنیچر کی رات گئے تک مسلح قبائلیوں نے حملے کیے جس سے دو ڈیفنس سروسز گروپ کے اہلکار اور چار شہری ہلاک ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے لوٹی گیس پلانٹ کا پائپ لائن کو نقصان پہنچا ہے جس سے کنواں نمبر تین بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت لوٹی گیس پلانٹ کے دو کنویں بند ہو گئے ہیں جس سے چار ملین مکعب فٹ گیس کم ہو گئی ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر بگٹی کی رہائش گاہ سے نبی بخش نے کہا ہے کہ یہ حملے بندلانی کلپر قبیلے کے ان لوگوں پر کیے گئے ہیں جنہیں حکومت نے گزشتہ دنوں زبردستی گیس فیلڈ کے علاقے میں دوبارہ بسایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ قومی اور مجرم ہیں اور ان کو قومی جرگے نے علاقہ بدر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو گیس فیلڈ میں بسانے سے قومی تنصیبات کو نقصان پہنچ سکتا ہے یہ حکومت کو خیال رکھنا چاہیے تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ حملے قومی تنصیبات یا سیکیورٹی فورسز پر نہیں کیے گئے بلکہ یہ بگٹی قبائل نے اپنے مجرموں کے خلاف کیے ہیں کنپیں گیس فیلڈ کے علاقے میں دوبارہ بسایا گیا ہے۔ کل لوٹی گیس پلانٹ کے پائپ لائن کو بھی تین مختلف مقامات پر دھماکوں سے اڑا دیا گیا تھا جس سے کوئی ساٹھ فٹ پائپ لائن تباہ ہوئی ہے۔ اس بارے میں میں نے جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ گیس تنصیبات پر حملے کرنے سے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ سب کچھ فوجی آپریشن کو وسیع کرنے کے لیے حکومت خود کرا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے سوئی میں بسائے جانے والے کلپر قبیلے کی زیلی شاخ بندلانی قبیلے کے لوگوں کے خلاف ہو سکتے ہیں۔ بندلانی قبیلے کا بگٹی قبیلے سے تنازعہ چلا آرہا ہے اور کوئی دس سال پہلے قبائلی جرگے کے فیصلے کے تحت اس قبیلے کے لوگوں کو علاقہ بدر کر دیا گیا تھا لیکن سابقہ حکومتوں نے انھیں دوبارہ بسانے کے لیے کوششیں کیں لیکن بارآور ثابت نہ ہوئیں اب ایک مرتبہ پھر موجودہ حکومت نے یہ بیڑا اٹھایا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے ڈیرہ بگٹی میں جاری جھڑپوں اور صدر پرویز مشرف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک علاقے کا سونا چھین کے جا رہے ہوں تو ان لوگوں کا اسلحہ اٹھانی ایک فطری عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو مکمل خود مختیاری دے اور صرف تین شعبے اپنے پاس رکھے تو اس صوبے میں ترقی ہو سکتی ہے لوگوں کو روزگار ملے گا تو یہ مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا اس طرح فوجی کارووائی کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان میں شدید ترین سردی03 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: فائرنگ جاری، آٹھ ہلاک13 January, 2006 | پاکستان بلوچستان میں پرتشدد کارروائیاں15 January, 2006 | پاکستان ’بلوچستان میں مفادات کی جنگ‘23 January, 2006 | پاکستان بلوچستان ہائی کورٹ جج پر حملہ27 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: کانگرس مین کی تشویش28 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: پانی کی پائپ لائن پر دھماکہ28 January, 2006 | پاکستان بلوچستان: اوچ پاور پلانٹ پر حملہ29 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||