BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 June, 2006, 01:54 GMT 06:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوہلو: کشیدگی جاری

کوہلو
بلوچستان کے علاقے کوہلو میں پہلے بھی فوجی آپریشن کیا گیا تھا
صوبہ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں کشیدگی جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز کے حملوں اور مسلح قبائلیوں سے جھڑپوں کی اطلاعات ہیں تاہم سرکاری سطح پر ان کی تصدیق مشکل سے ہو پاتی ہے۔

ڈیرہ بگٹی سے حکومت کے حمایتی کلپر قبیلے اور مسلح بگٹی قبائلیوں کے مابین جھڑپیں ہو رہی ہیں ۔ کلپر قبیلے کو سیکیورٹی فورسز کی حمایت حاصل ہے اور ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر ہیلی کاپٹر بھی ان کی مدد کے لیے موجود ہیں۔

اسی طرح کاہان سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ جب رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری سے پوچھا کہ کشیدگی میں کمی بیشی کی کیا وجوہات ہیں توانھوں نے کہا کہ شدت میں کمی کبھی نہیں آئی۔ انھوں نے کہا کہ کاہان اور قریبی علاقوں میں بعض اوقات اندھا دھند گولہ باری کی جاتی ہے جس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ یہاں جو لوگ باقی بچ گئے ہیں وہ بھی یہ علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں۔

بالاچ مری نے کہا کہ باوجود اس کے کہ حکومت نے خوراک کی فراہمی کے تمام راستے بند کر دیے ہیں اور بگٹی مری قبیلے کے لوگوں کو روز مرہ زندگی کی اشیاء فروخت نہیں کی جارہی ہیں پھر بھی کچھ لوگ اپنی زمین چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں ۔

جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے بیسویں حصے میں مزاحمت ہو رہی ہے اور حکومت سیکیورٹی فورسز کو ہونے والے نقصان کو چھپا رہی ہے۔

ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس بیسویں حصے پر تقریبا ساٹھ ہزار مسلح اہلکاروں کو جدید اسلحے سے تعینات کیا گیا ہے جو بلوچ مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب تک ڈیرہ بگٹی میں ایک سو نوے مقامی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں اورتقریباً تین سو چھتیس زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے مطابق ڈیرہ بگٹی کی سوا لاکھ کے قریب آبادی اپنے گھر بار چھوڑ کر مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

اس سے قبل کاہان اور قریبی دیہاتوں سے فضائی حملوں اور گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جن میں ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔ سرکاری سطح پر ان حملوں کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ جمعہ اور سنیچر کے روز کم سے کم چھ جیٹ طیاروں اور دو ہیلی کاپٹروں نے پروازیں کی ہیں اور کچھ مقامات پر حملے کیے ۔

انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ دنوں ایک خاتون اور اس کی بچیاں بمباری کی وجہ سے زخمی ہوگئی تھیں لیکن طبی امداد نہ ہونے کی وجہ سے وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد