اکبر بگٹی پر قتل کا مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ مغوی نائب تحصیلدار شہزادہ بگٹی کو قتل کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں نواب اکبر بگٹی سمیت بیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ نائب تحصیلدار شہزادہ بگٹی کی لاش اتوار کی صبح ضلع نصیر آباد میں میر حسن پل کے نیچے سے ملی ہے جسے نصیر آباد پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ دو مغوی لیویزاہلکار اور ایک ڈرائیور کا اب تک کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ عبدالصمد لاسی نے کہا کہ سوئی پولیس نے نواب اکبر بگٹی براہمدغ بگٹی اور رکن صوبائی اسمبلی حاجی جمعہ بگٹی سمیت بیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ نواب اکبر بگٹی، براہمدغ بگٹی اور دیگر کے خلاف پہلے بھی کئی مقدمے درج کیے جا چکے ہیں۔ عبدالصمد لاسی نے سنیچر کی رات سوئی سے ٹیلیفون پر بتایاتھا کہ کلپر قبیلے کے لوگوں نے انہیں کہا تھا کہ اوچ گیس پلانٹ کی زمین ان کے بندلانی قبیلے کی ملکیت ہے جس پر انہوں نے نائب تحصیلدار شہزادہ بگٹی کی تحقیق کے لیے موقع پر بھیجا جس کے بعد انہیں جمہوری وطن پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی کا ٹیلیفون موصول ہوا جس میں انہیں اس مسئلے سے دور رہنے کا کہا گیا۔ عبدالصمد لاسی نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں ان کا نمائندہ طلب کیا لیکن نمائندہ تو نہیں آیا، نائب تحصیلدار لیویز کے دو اہلکاروں سمیت اغوا کر لیا گیا ہے جس پر رکن صوبائی اسمبلی سمیت دس افراد کے خلاف اوچ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ۔ اس سلسلے میں جمہوری وطن پارٹی کے ترجمان سینیٹر آغا شاہد بگٹی سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے اس بارے میں لا علمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا رابطہ نواب اکبر بگٹی سے سنیچر کو شام کے وقت ہوا تھا لیکن اس قصے کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ بارکھان میں دھماکہ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ پولیس تھانے کی دیوار کے سے متصل ایک حجام کی جھونپڑی نما دکان میں کسی نے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے جھونپڑی گر گئی ہے اور تھانے کی دیوار کو نقصان پہنچا ہے۔ پولیس انسپکٹر محمد نواز نے بتایا ہے کہ سڑ ک کے دوسری جانب ایک شخص کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کارروائی کن لوگوں نے کی ہے اور کیا مقاصد تھے۔ دو روز پہلے نا معلوم افراد نے بارکھان اور کوہلو کے درمیان بجلی کے کھمبوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا تھا جس کی ذمہ داری آزاد بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر ممنوعہ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے قبول کی تھی۔ اسی طرح کوئٹہ میں تین دن پہلے پولیس ٹریننگ سکول کی فائرنگ رینج میں پانچ دھماکے ہوئے تھے جس میں چھ زیر تربیت پولیس اہلکار ہلاک اور تیرہ زخمی ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں ’فوجی آپریشن غیرآئینی ہے‘06 May, 2006 | پاکستان بلوچستان، بارودی سرنگیں: 3 ہلاک07 May, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی، کچھ افراد کی واپسی08 May, 2006 | پاکستان کوئٹہ دھماکے، 6 پولیس اہلکار ہلاک11 May, 2006 | پاکستان کوئٹہ دھماکے: 10 افراد گرفتار12 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||