BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 May, 2006, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی، کچھ افراد کی واپسی

ڈیرہ بگٹی کے کچھ لوگ
حکام اور قبائلی سردار اکبر بگٹے کے درمیان لڑائی میں ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں
ڈیرہ بگٹی کے رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے ستائے ہوئے لوگوں کا ایک اور گروپ پیر کو دوبارہ آباد ہونے ڈیرہ بگٹی پہنچا ہے جبکہ جمہوری وطن پارٹی کے ترجمان نے کہا ہے یہ لوگ نواب بگٹی کے مخالف نہیں ہیں بلکہ انہیں دباؤ ڈال کر واپس لایا گیا ہے۔

ڈیرہ بگٹی سے ٹیلیفون پر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ میوہ خان کی سربراہی میں نوتھانی بگٹیوں کا گروپ ڈیرہ بگٹی پہنچا ہے جنہیں پیر کوہ کے علاقے میں آباد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے تین گروپ بیکڑ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں آباد ہو چکے ہیں اور مزید لوگ رابطے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی ٹاؤن اور قریبی علاقوں کے علاوہ حکومت کی عمل داری قائم ہو چکی ہے اور علاقے میں امن قائم ہے۔

ان سے جب پوچھاگیا کہ سکیورٹی فورسز اور بگٹی قبائل کی جھڑپوں اور کلپروں کو آباد کرنے کہ بعد بڑی تعداد میں مقامی لوگ یہاں سے چلے گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ لوگ انتظار میں ہیں کہ کوئی سیاسی حل شائد نکلے گا اور نواب اکبر بگٹی دوبادہ واپس آجائیں گے لیکن ایسا اب نہیں ہو گا۔

اس سلسلے میں جمہوری وطن پارٹی کے ترجمان سینیٹر شاہد بگٹی سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو پیر کو لایا گیا ہے ان کے سربراہ ڈیرہ مراد جمالی میں اپنا کاروبار کرتے تھے اور وہ کوئی نواب اکبر بگٹی کے مخالف نہیں ہیں بلکہ حکومت ان پر دباؤ ڈال کر انہیں واپس لائی ہے اور حکومت ان لوگوں پر دباؤ ڈال کر نواب اکبر بگٹی کے خلاف پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔

حکومت کی عمل داری کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ خالی دیواروں پہاڑوں اور ویرانوں میں حکومت کی عمل داری شائد قائم ہو لیکن وہاں لوگ نہیں ہیں۔ ڈیرہ بگٹی میں پیر کو بھی وہی صورتحال ہے جو تین ماہ پہلے تھی سکیورٹی فورسز اور مقامی قبائلیوں کے مابین جھڑپیں جاری ہیں۔

یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی کے ایک وفد نے گزشتہ ماہ ڈیرہ مراد جمالی، نصیر آباد، ڈیرہ اللہ یار، جیکب آباد اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ اس وفد میں شامل قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ بے آسرا پڑے ہیں جن کے پاس نہ چھت ہے اور نہ ہی خوراک کا کوئی ذریعہ۔ یہ لوگ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں جھڑپوں اور کلپروں کو آباد کرنے کے بعد اپنے گھر چھوڑ کر قریبی علاقوں میں کھلے میدانوں میں بے آسرا پڑے ہیں۔

عبدالصمد لاسی نے کہا ہے کہ حکومت نے ایک پروگرام ترتیب دیا ہے جس میں ان بے گھر لوگوں کو آباد کیا جائے گا لیکن یہ لوگ نواب اکبر بگٹی کے خوف کی وجہ سے لوٹنا نہیں چاہتے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد