کوئٹہ دھماکے، 6 پولیس اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سکول کے قریب فائرنگ رینج کے احاطے میں بیک وقت پانچ دھماکوں سے انسداد دہشت گردی فورس کے چھ اہلکار ہلاک اور تیرہ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے گیارہ کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ کوہ مردار کے دامن میں واقع فائرنگ رینج کے احاطہ میں نامعلوم افراد نے پانچ بوبی ٹریپ قسم کے بم نصب کیے تھے اور سب ایک دوسرے سے منسلک تھے جس سے بیک وقت پانچ دھماکے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ یہ بارودی سرنگ کی قسم کا دھماکہ خیز مواد ہوتا ہے جسے بوبی ٹریپ کہا جاتا ہے اور ایک دوسرے کو تاروں کے ذریعے منسلک کیا جاتا ہے۔ اگر ایک پر پر پاؤں آجاتا ہے تو سب پھٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات دو مختلف زاویوں سے کی جارہی ہے: ایک تو افغانیوں کا ملوث ہونا ہے کیونکہ گزشتہ دنوں دو ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں افغانستان سے آئے ہوئے افراد ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا قوم پرستی کے حوالے سے ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غیرملکی ہاتھ اس میں ملوث ہو سکتا ہے کیونکہ اب تک جتنی گرفتاریاں ہوئی ہیں اور جتنی تحقیقات کی گئی ہیں ان سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو غیر ممالک کے لوگ استعمال کرتے ہیں اور انہیں چھ سے دس ہزار روپے ماہوار دیے جاتے ہیں۔ چوہدری یعقوب نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں نے موقع سے دو مقامی افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ سول ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے انچارج ڈاکٹر فضل الرحمان بگٹی نے بتایا کہ زیادہ تر زخمیوں کی آنکھوں اور کانوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کچھ کے کانوں کے پردے پھٹ گئے ہیں۔ | اسی بارے میں کوئٹہ: وزیر کےگھر حملہ،20 گرفتار26 February, 2006 | پاکستان گرینیڈ حملے میں 2 سپاہی زخمی18 March, 2006 | پاکستان بلوچستان: اہم ریلوے پُل تباہ22 April, 2006 | پاکستان فوجی کارروائی کے خلاف ہڑتال03 May, 2006 | پاکستان کوئٹہ میں کار بم دھماکہ، چار زخمی02 November, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||