بلوچ دھماکے: فوجی سمیت سات ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں اتوار کے روز ہونے والے کئی دھماکوں میں تین نیم فوجی اہلکار سمیت سات افراد ہلاک اور کم سے کم سترہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ ضلع بولان کے علاقے میں نیم فوجی دستے لیویز کی ایک گاڑی پی پی ایل کے سروے کے بعد واپس آتے ہوئے بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں لیویز کے تین اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق اس دھماکے کے بعد لیویز کے اہلکاروں نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں مزید چار افراد زخمی ہوگئے۔ زخمی ہونے والے لوگوں کی شناخت کے بارے میں تفصیلات نہیں موصول ہوئی ہیں۔ ضلع کوہلو میں کوہلو۔بارخان روڈ پر ایک ڈیری فارم میں ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ایک بچہ ہلاک ہوگیا۔ اس دھماکے کے بعد جب مقامی لوگ وہاں جمع ہوئے تو دوسری بارودی سرنگ پھٹ گئی جس کے نتیجے میں ایک عورت اور ایک بچی ہلاک ہوگئیں۔ اطلاعات کے مطابق اس ڈیری فارم پر ہونے والے ان دھماکوں میں کم سے کم بارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اتوار کو ہی ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے پون شرنی میں ایک ٹریکٹر ٹرالی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔ بلوچستان میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ وفاق کے خلاف سرگرم بلوچ قوم پرست تنظیمیں یہ بارودی سرنگیں بچھاتی ہیں۔ حکومت اس سلسلے میں نواب اکبر بگٹی اور نواب خیربخش مری سے منسلک افراد کو ذمہ دار ٹھہراتی رہی ہے لیکن دونوں سرداروں کا کہنا ہے کہ بیشتر واقعات میں حکومت خود اس طرح کی بارودی سرنگیں بچھاتی ہے تاکہ صوبے کے حالات کو مزید خراب کرسکے۔ بلوچستان میں ہونے والے تشدد کے ایسے واقعات پر اتوار کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جس میں کافی لوگوں نے شرکت کی۔ نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ چودہ کلومیٹر پر مشتمل ریلی سریاب کسٹم سے شروع ہوئی اور منان چوک پر ختم ہوئی اور اس میں بیس سے پچیس ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ اس ریلی کے شرکاء کے ہاتھوں میں جو بینر تھے ان سے لگتا تھا کہ ان کا تعلق بلوچستان نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی، پشتونخواہ ملی عوام پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی سے ہے۔ نامہ نگار ایوب ترین کا کہنا ہے کہ ریلی میں بعض نوجوانوں نے اپنے بازوؤں پر کالی پٹی بھی باندھ رکھی تھی اور بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||