عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ |  |
 | | | بلوچستان میں تشدد سے حالیہ دنوں میں بہت لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں |
بلوچستان کے شہر کوہلو میں نامعلوم افراد نے دو راکٹ فائر کیئے ہیں جس سے فرنٹیئر کور کے دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے سنیچر کے روز کوئٹہ اور نوشکی میں کم سے کم چار راکٹ داغے گئے تھے جس سے ایک خاتون ہلاک اور دو بچیاں زخمی ہوگئی تھیں۔ کوہلو کے انتظامی افسر کمیل علی نے بتایا ہے کہ دونوں راکٹ قریب واقع جندران کی پہاڑیوں سے داغے گئے ہیں۔ ایک راکٹ فرنٹیئر کور کے کیمپ کے اندر گرا جس سے سے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ لورالائی سے مقامی صحافی امانت حسین نے بتایا ہے کہ زخمیوں کو ملتان منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسرا راکٹ کیمپ سے باہر کھلے میدان میں گرا ہے جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کوئٹہ میں سنیچر کو مارے جانے والے راکٹوں کے سلسہ میں پولیس نے سات مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ایک نا معلوم شخص میرک بلوچ نے کوئٹہ میں راکٹ حملوں کی زمہ داری ممنوعہ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے قبول کی تھی۔ اس کے علاوہ کل صوبے کے دیگر علاقوں سے بھی راکٹ داغنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ نوشکی میں راکٹ گرنے سے ایک دیوار گری ہے جبکہ کوہلو، ہرنائی اور ڈیرہ بگٹی میں بیس سے زیادہ راکٹ داغنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ان حملوں میں سیکیورٹی فورسز کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ سرکاری سطح پر ان حملوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
|