BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 May, 2006, 23:30 GMT 04:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچوں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ

پولیس اغوا کے واقعات کو روکنے میں ناکام رہی ہے
کوئٹہ میں بچوں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ہفتے دو بچوں کو سکول جانے اور سکول سے واپس آنے کے دوران بندوق کی نوک پر اٹھا لیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی محمد شفیق نے کہا ہے کہ تین ماہ میں سترہ بچے اغوا کیے گئے ہیں۔

چھ سالہ عادل کو سکول سے چھٹی کے بعد ایک ٹو ڈی گاڑی میں سوار تین افراد سریاب روڈ سے بندوق کی نوک پر رکشے سے اتار کرساتھ لے گئے ہیں جبکہ نویں جماعت کے ایک طالب علم احسان اللہ کو سیٹلائیٹ ٹاؤن کے علاقے سے نامعلوم افراد سکول وین سے زبردستی اتار کر ساتھ لے گئے ہیں۔

اس سے پہلے ایک کمسن بچی شگفتہ کو فاطمہ جناح روڈ سے اٹھایا گیا تھا اور ان سب کا اب تک کچھ پتہ نہیں ہے کہ کہاں ہیں۔

عادل کے والدعبدالستار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ دکاندار ہیں اور ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بچے کو دہاڑے دکانداروں کے سامنے اٹھایا گیا ہے، اس غم کی وجہ سے کسی نے گھر میں کچھ نہیں کھایا اور سب پریشان ہیں۔

 گزشتہ کچھ ماہ میں بچوں کی گمشدگی کے کوئی بیس واقعات ان کے سامنے آئے ہیں جن میں سے سترہ بچے واپس پہنچ گئے ہیں اور اکثر بچے گھریلوں تنازعات کی وجہ سے خود گھر چھوڑ کر گئے تھے۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس غلام ڈوگر
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی محمد شفیق نے کہا ہے کہ تین ماہ میں سترہ بچوں کو اغوا کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ اب بچوں کو سکول بھیجنے پر پریشان ہوتے ہیں اور اگر یہی صورتحال جاری رہی تو لوگ ماؤں کی گود سے بچوں کو اٹھا کر لے جائیں گے۔ محمد شفیق نے کہا: ’ایجنسیاں سیاست دانوں کا پیچھا کرتی رہتی ہیں اور حکومت خاموش ہے، لگتا ایسا ہے کہ حکومت ان اغوا کاروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔‘

اس سلسلے میں کوئٹہ کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس غلام محمد ڈوگر سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کہا کہ حالیہ اغوا کے واقعات کے حوالے سے پولیس سے تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ ماہ میں بچوں کی گمشدگی کے کوئی بیس واقعات ان کے سامنے آئے ہیں جن میں سے سترہ بچے واپس پہنچ گئے ہیں اور اکثر بچے گھریلوں تنازعات کی وجہ سے خود گھر چھوڑ کر گئے تھے۔

ان واقعات کی وجہ سے کوئٹہ کے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ایک دکاندار اسماعیل داوی نے کہا ہے کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے، کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بچے اغوا کررہے ہیں تاکہ سرمایہ داروں سے کچھ رقم بٹور سکیں جس سے شہر کا امن تباہ ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں
اغواء، اغواء نہیں شرارت تھا
10 November, 2005 | پاکستان
صحافی کی گمشدگی کامعمہ
11 December, 2005 | پاکستان
’گیارہ بگٹی مخالف اغوا‘
27 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد