BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 April, 2006, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بی ایل اے سے میرا رابطہ 7 برس پہلے ہوا‘

بلوچ
سات برس بعد تنظیم پر پابندی سے اس کی مشہوری ضرور ہوگئی
صحافتی زندگی کے دوران صحافیوں کا رابطہ حکومت مخالف افراد اور جماعتوں سے رہتا ہی ہے۔ اس زندگی کے تجزیے سے معلوم یوں ہوتا ہے کہ جیسے ذرائع ابلاغ ان افراد یا گروہوں کی ضرورت ہیں۔ اس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتے۔

کسی زیر زمین شدت پسند تنظیم سے میرا پہلا رابطہ سات برس قبل صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہوا۔ معمول کی طرح ایک دن دفتر میں کام کے دوران ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب سے کوئی بھاری سی آواز والا شخص دھیمے لہجے میں بولا کہ آپ کے لیئے ایک بھورے رنگ کا لفافہ باہر ایک بند دوکان کی جالی میں پڑا ہے، لے لیں۔ میرے پوچھنے پر کہ آپ کون ہیں تو اس شخص نے ’بلوچستان لبریشن آرمی’ کہہ کر فون بند کر دیا۔

بھورے لفافے میں ایک صفحے کا ہاتھ کا لکھا خط تھا جس میں ایک دن قبل کوئٹہ میں ہوئے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔ خط میں فوج کو ’پنجابی فوج’ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف باتیں تھی اور بلوچوں کو ان کے حقوق دلوانے تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان تھا۔

بلوچستان لبریشن آرمی کو اس سے قبل کوئی نہیں جانتا تھا۔ صوبائی حکام ایک طویل عرصے تک اس نام کی کسی تنظیم کے وجود سے انکار کرتے رہے۔ بلوچستان کے صوبائی اہلکار تو آج بھی اسی موقف کو اپنائے ہوئے ہیں تاہم مرکزی حکومت نے اس پر مکمل پابندی لگاتے ہوئے اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔

مجھ سے پہلے رابطے کے بعد پیغام رسانی کا یہ طریقہ بم دھماکوں اور راکٹ حملوں کی طرح ایک معمول بن گیا۔ ایک مرتبہ ایک خط قریبی کریانہ کی دوکان میں چھوڑا گیا جس پر کریانے والے کی جان عذاب میں آگئی۔ اسے پولیس اور دیگر اداروں کے اہلکار کئی روز تک خط دینے والے کا حلیہ جاننے کے لیئے طلب کرتے رہے۔

پھر بدلتے حالات کی نزاکت کو جانچتے ہوئے خط وکتابت کی جگہ ٹیلفون کا ہی استعمال ہونے لگا اور اب تک جاری ہے۔ کبھی کبھی ای میل بھی ملنے لگی ہے۔

اس وقت موجودہ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ آئی جی بلوچستان تھے۔ سرکاری سطح پر اس تنظیم کے وجود کا انکار کرتے ہوئے بھی، انہوں نے اور دیگر اداروں نے ہر جانب اپنے گھوڑے دوڑا دیئے۔

جہاں جہاں بی ایل اے کے ٹیلیفون آتے وہاں وہاں آبزرویشنز لگادی جاتی تھیں۔ ہمارے کوئٹہ کے ایک صحافی ساتھی کو خفیہ ادارے والوں نے طلب کیا اور پوچھا کہ یہ فون کس نمبر سے آتے ہیں تو انہوں نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ جناب ایک تو آپ کا اور دوسرا بی ایل اے کا نمبر سی ایل آئی پر دکھائی نہیں دیتا۔

لیکن بظاہر حاصل کچھ نہیں ہوا۔ یہ اس تنظیم کے عہد نو کا شاید پہلا واقعہ تھا۔

نواز شریف دورِ حکومت تھا اور بلوچستان کو ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ میں نمائندگی سے لے کر ہر سطح پر نظرانداز کیئے جانے کی شکایت عام تھی۔ کہیں موٹروے تعمیر ہو رہی تھیں، شہری تعمیرات زوروں پر تھیں تو کہیں آمدو رفت کے لیئے کچی سڑک کا بھی نام و نشاں نہیں تھا۔

بلوچستان کی تاریخ میں اس قسم کی کئی تنظیمیں قائم ہوئیں اور وقت یا ضرورت کے مطابق یا تو ختم ہوگئیں یا پھر دوسرے نام سے سامنے آئیں۔ اس مرتبہ بھی حالات کچھ ایسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔

سات برس بعد تنظیم پر پابندی سے اور کچھ نہیں تو کئی لوگوں کے خیال میں اس تنظیم کی ’مشہوری’ ضرور ہوگئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد