بلوچستان لِبریشن آرمی پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے بلوچستان لبریشن آرمی نامی بلوچ تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس مسلح تنظیم پر حکومت اور شہریوں کے خلاف دہشت گرد کاروائیاں کرنے اور بےگناہ افراد کو ہلاک کرنے کے الزامات ہیں۔ پاکستان کی وزارت داخلہ کے سیکریٹری سید کمال شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس حکومتی اقدام کی تصدیق کی اور کہا کہ اس تنظیم نے راکٹ، بم حملوں اور بارودی سرنگوں کے ذریعے بےگناہ شہریوں اور گیس تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ وزیراطلاعات و نشریات شیخ رشید نے پی ٹی وی کو بتایا: ’پابندی اس لیئے عائد کرنی پڑی کیوں کہ گرفتار کیے جانے والے افراد نے بتایا کہ قومی تنصیاب کو نقصان پہنچانے اور امن و عامہ کو نقصان پہنچانے کے لیئے انہیں پیسے دیے جارہے تھے۔‘ سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ کے مطابق بی ایل اے نے ان واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے جس کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس تنظیم کو کالعدم قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس تنظیم کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں تاہم سیکریٹری داخلہ کے مطابق یہ تنظیم بلوچستان کے مری قبیلے کی تنظیم ہے اور اس کے سربراہ کے طور پر بلوچستان کے ممبر صوبائی اسمبلی بالاچ مری کا نام لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کے دفاتر سیل کر دیے جائیں گے اور ان کی مالی مدد کرنے کے ذرائع کو منقطع کیا جائے گا۔اس کے علاوہ اس تنظیم کے ارکان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ حکام کے مطابق اس تنظیم نے اس برس فروری میں حب کے علاقے میں تین چینی انجینیئروں کی گاڑی پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا تھا اور اس واقعے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔اس سے قبل گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں کراچی میں کے ایف سی اور پی پی ایل کے دفتر کے سامنے ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری بھی بی ایل اے نے قبول کی تھی۔ اس بم دھماکے میں تین افراد مارے گئے تھے۔ بلوچستان لبریشن آرمی کا کوئی دفتر موجود نہیں ہے اور اکثر اس تنظیم کے ترجمان کسی واقعے کے بعد اخبارات اور ذرائع ابلاغ کو فون کر کے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بلوچستان کے قوم پرست رہنما اس تنظیم سے اب تک لاتعلقی کا اظہار کرتے آئے ہیں مگر اس تنظیم کی اس بات سے متفق ہیں کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے ساتھ امتیازی رویہ اپنایا ہوا ہے اور دوسرے صوبوں کی نسبت بلوچستان کو کم وسائل دیے گئے ہیں۔ تاہم حکومت نےگذشتہ دو برسوں میں بلوچستان کے لیئے کئی ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے مگر صوبے میں جاری شورش تھمی نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں مینگل کےگھر کے محاصرے پر احتجاج05 April, 2006 | پاکستان بلوچستان: سکیورٹی فورسز پر حملہ26 March, 2006 | پاکستان بلوچستان: دھماکے، تین بچے زخمی22 March, 2006 | پاکستان ’ کاہان کے قریب فضائی حملے‘05 March, 2006 | پاکستان بلوچستان: پارٹی سربراہ ہلاک01 March, 2006 | پاکستان بلوچستان کے ویرانوں میں24 February, 2006 | پاکستان کوئٹہ: گیس پائپ لائن میں دھماکہ22 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||