BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 April, 2006, 10:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان لِبریشن آرمی پر پابندی

کاہان کے قریب ایک بلوچ جنگجو
پاکستانی حکومت نے بلوچستان لبریشن آرمی نامی بلوچ تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس مسلح تنظیم پر حکومت اور شہریوں کے خلاف دہشت گرد کاروائیاں کرنے اور بےگناہ افراد کو ہلاک کرنے کے الزامات ہیں۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کے سیکریٹری سید کمال شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس حکومتی اقدام کی تصدیق کی اور کہا کہ اس تنظیم نے راکٹ، بم حملوں اور بارودی سرنگوں کے ذریعے بےگناہ شہریوں اور گیس تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

وزیراطلاعات و نشریات شیخ رشید نے پی ٹی وی کو بتایا: ’پابندی اس لیئے عائد کرنی پڑی کیوں کہ گرفتار کیے جانے والے افراد نے بتایا کہ قومی تنصیاب کو نقصان پہنچانے اور امن و عامہ کو نقصان پہنچانے کے لیئے انہیں پیسے دیے جارہے تھے۔‘

سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ کے مطابق بی ایل اے نے ان واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے جس کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس تنظیم کو کالعدم قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اس تنظیم کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں تاہم سیکریٹری داخلہ کے مطابق یہ تنظیم بلوچستان کے مری قبیلے کی تنظیم ہے اور اس کے سربراہ کے طور پر بلوچستان کے ممبر صوبائی اسمبلی بالاچ مری کا نام لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کے دفاتر سیل کر دیے جائیں گے اور ان کی مالی مدد کرنے کے ذرائع کو منقطع کیا جائے گا۔اس کے علاوہ اس تنظیم کے ارکان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے۔

حکام کے مطابق اس تنظیم نے اس برس فروری میں حب کے علاقے میں تین چینی انجینیئروں کی گاڑی پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا تھا اور اس واقعے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔اس سے قبل گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں کراچی میں کے ایف سی اور پی پی ایل کے دفتر کے سامنے ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری بھی بی ایل اے نے قبول کی تھی۔ اس بم دھماکے میں تین افراد مارے گئے تھے۔

بلوچستان لبریشن آرمی کا کوئی دفتر موجود نہیں ہے اور اکثر اس تنظیم کے ترجمان کسی واقعے کے بعد اخبارات اور ذرائع ابلاغ کو فون کر کے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

بلوچستان کے قوم پرست رہنما اس تنظیم سے اب تک لاتعلقی کا اظہار کرتے آئے ہیں مگر اس تنظیم کی اس بات سے متفق ہیں کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے ساتھ امتیازی رویہ اپنایا ہوا ہے اور دوسرے صوبوں کی نسبت بلوچستان کو کم وسائل دیے گئے ہیں۔ تاہم حکومت نےگذشتہ دو برسوں میں بلوچستان کے لیئے کئی ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے مگر صوبے میں جاری شورش تھمی نہیں ہے۔

اسلحہفوج کی محافظ
فوج نےلیویز کی خدمات حاصل کر لیں ہیں
مسلح بلوچکیا سچ، کیا جھوٹ؟
حکومت ،مخالفین کے دعووں کی تصدیق ناممکن
بلوچستان میں ایک قبائلیصوبائی خودمختاری
صوبوں کو خودمختاری دینا اتنا آسان نہیں
سردار منگل’مسئلہ سادہ سا ہے‘
’مشرف بش کا غصہ ہم پر نکال رہا ہے‘
اکبر بگٹی بگٹی کی پیش گوئی
بگٹی نے ہڈی میں کیا دیکھا؟
اسی بارے میں
بلوچستان کے ویرانوں میں
24 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد