فوج کی محافظ، لیویز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حفاظت کی ذمہ دار فوج نے اپنی حفاظت کے لیے صوبہ بلوچستان میں لیویز کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔ لیویز ایک لحاظ سے دیہی پولیس ہوتی ہے اور زیادہ تر قبائلی سطح پر اس طرح کے فورس کی بھرتی ہوتی ہے۔ مقامی بلوچ سیاسی رہنما لیویز کو سرکاری خرچ پر پلنے والی سرداروں کی نجی فورس کہتے ہیں۔ کوئٹہ سے لے کر کیچ مکران تک اور گوادر سے کوہلو تک جہاں بھی فوج کی تنصیبات ہیں وہاں انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے لیویز فورس کو تعینات کر رکھا ہے۔ کوئٹہ شہر میں قائم فوجی چھاؤنی کے گرد نواح میں پہاڑ کے اوپر قائم چوکیوں اور مورچوں میں لیویز کے اہلکار ہی نظر آتے ہیں۔ بلوچستان کی نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنما ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے بتایا کہ کوئٹہ اور دیگر شہروں میں فوجی ٹھکانوں کی حفاظت کے لیے نمایاں طور پر قائم مورچوں اور چوکیوں میں لیویز کو اس لیے تعینات کیا گیا ہے کہ ان کے بقول اگر شدت پسند بلوچ کوئی کارروائی کریں تو پاک فوج کے اہلکار اس کے زد میں کم سے کم آئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک تو شدت پسند باغی بلوچ اور لیویز والے ایک دوسرے کا خیال کرتے ہیں کیونکہ زیادہ تر لیویز میں بھی بلوچ ہی ہیں۔ مری قبائل کے خلاف ماضی میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے دوران باغیوں کے سابق سپہ سالار شیر محمد مری عرف جنرل شیروف کے بڑے صاحبزادے یوسف خان مری نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی ہدایت پر مری قبیلے کی ذیلی شاخ بجارانی کو ایک ہزار لیویز بھرتی کرنے کی منظوری دی اور فی شخص ساڑھے چار سے پانچ ہزار روپے تنخواہ حکومت ادا کرتی ہے۔ بلوچستان میں اپنے حامی سرداروں کو اس لیویز یعنی نجی فورس کےحکومتی خرچ پر بھرتی کرنے کا اختیار دینے کی روایت انگریز کے دور میں پڑی اور تاحال حکمران اس پر آنکھ بند کرکے عمل کرتے آرہے ہیں۔ یوسف مری کے مطابق کوئٹہ کے سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے نواب خیر بخش مری کے ساتھ بات چیت کی اور کوہلو ضلع میں تیل اور گیس تلاش کرنے اور فوجی چھاؤنی کے قیام کے بدلے انہیں مراعات دینے کی بھی پیشکش کی۔ ان کے مطابق جب نواب مری سے فوج کے معاملات طے نہیں ہوسکے تو انہوں نے نواب کے مخالف مریوں کو لیویز بھرتی کرنے کی پیشکش کی تاکہ مری کو مری سے ہی لڑایا جاسکے۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک بھر میں لشکر اور سپاہ کے نام سے سرگرم شدت پسند اسلامی تنظیموں پر پابندی عائد کردی اور اب وہ بلوچستان میں بھی سرداروں کی مسلح نجی فورسز کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن دوسری طرف خود ہی لیویز کے نام پر اپنے حامی سرداروں اور وڈیروں کو ریاستی خرچ پر فورس بنانے کی اجازت بھی دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال کے بارے میں بلوچستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے سرکردہ رہنماوں کا خیال ہے کہ پاکستان فوج ’مسئلہ بلوچستان‘ کو غلط انداز میں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اکیسویں صدی ہے دنیا میں بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں اور اب معاملات انگریز کی روایات سے ہٹ کر زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے طے کرنے ہوں گے۔ کوئٹہ میں جب آئی ایس پی آر کے ترجمان مظفر بلال سے صورتِ حال پر تبصرے کے لیے کہا گیا تو ان کا جواب تھا: ’میں اس حوالے سے کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔‘ | اسی بارے میں بلوچستان: گیس پائپ لائن پر حملہ03 October, 2005 | پاکستان بلوچستان حکومت نوازوں کی اکثریت06 October, 2005 | پاکستان بلوچستان آپریشن کے خلاف احتجاج13 January, 2006 | پاکستان بلوچستان میں پرتشدد کارروائیاں15 January, 2006 | پاکستان باجوڑ، بلوچستان، اپوزیشن واک آؤٹ19 January, 2006 | پاکستان بلوچستان میں جھڑپیں اور دھماکے20 January, 2006 | پاکستان ’بلوچستان میں مفادات کی جنگ‘23 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||