بلوچستان: گیس پائپ لائن پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر کولپور کے قریب گیس پائپ لائنوں میں دھماکوں کے بعد کوئٹہ زیارت اور پشین کے علاقوں کو گیس کی ترسیل تاحال منقطع ہے۔ پیر کی صبح دھماکوں کے بعد گیس کی ترسیل متبادل زرائع سے بحال کر دی گئی تھی لیکن بعد میں گیس سپلائی منقطع کر دی گئی ہے۔ ان دھماکوں سے کوئٹہ زیارت پشین اور دیگر علاقوں کو گیس کی ترسیل منقطع ہو گئی ہے۔ گیس کمپنی کے افسران نے کہا ہے کہ پائپ لائن کی مرمت کا کام شروع ہےجو پیرشام تک مکمل ہو گا جس کے بعد گیس کی ترسیل ممکن ہو سکے گی کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں گیس کی ترسیل منقطع ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے بیشتر تندور اور ہوٹل بند ہیں اور کچھ نے متبادل ذرائع استعمال کیے ہیں جیسے گیس سلنڈرز اور لکڑی وغیرہ۔ کوئٹہ میں جنرل مینیجر سوئی سدرن گیس کمپنی سے رابطہ قائم نہ ہوسکا لیکن ان کے سیکرٹری نے بتایا ہے کہ ہیڈ آفس سے ٹیم موقع پر پہنچ چکی ہے اور نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے دریں اثناء ایک نا معلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے بلوچ لبریشن آرمی ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ آزاد بلوچ نے کہا ہے کہ بجلی کے کھمبوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے لیکن اس کی تصدیق کہیں سے نہیں ہو سکی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||