پاکستان کا قیام، بنگالیوں کی سازش؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پاکستان کا قیام دراصل بنگالیوں کی ایسی سازش تھی جس پر انہوں نے سن انیس سو پانچ میں کام شروع کیا تھا اور جس کا مقصد دراصل بنگلہ دیش بنانا تھا۔بنگالیوں نے اپنا یہ مقصد بالآخر سن انیس سو اکہتر میں حاصل کر ہی لیا‘۔ میں سازشی نظریات پر یقین رکھنے والوں کی ایسی باتوں پرکوئی بھی دھیان نہیں دیتا۔ لیکن مجھے اس پر یوں دھیان دینا پڑا کہ ہرطرح کی تاریخ اور ملک کے اساسی دو قومی نظریے پر سیاہی پھیرنے والے اس ’عدیم المثال نظریے‘ کے پرچارک کوئی اور نہیں، بلکہ ملک کی ’جغرافیائی اور نظریاتی‘ سرحدوں کی حفاظت کے علمبردار ادارے یعنی پاکستانی فوج کے ایک حاضر سروس جنرل تھے۔ ہوا کچھ یوں کہ نواب اکبر بگٹی کے مخالف میر احمدان بگٹی اور ان کے ڈیڑھ ہزار ساتھیوں کی ڈیرہ بگٹی واپسی کا منظر دکھانے کے لیے کراچی سے ملکی اور غیرملکی اداروں کے صحافیوں کو سوئی اور ڈیرہ بگٹی لے جایا جارہا تھا۔ اس اہم دورے سے پہلے ’قومی مفاد سے ہم آہنگ، اطلاعات عوام تک پہنچانے کی خاطر صحافیوں کی ’ذہن سازی‘ کی ذمہ داری جنرل موصوف اس اصرار کے ساتھ نبھا رہے تھے کہ ان کے فرائض کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ ان کی شناخت ذرائع ابلاغ میں ظاہر نہ ہو اور اس دوران جب بات مشرقی پاکستان کی صورتحال اور آج کے بلوچستان کے موازنے تک آئی تو ’قیام پاکستان کی بنگالی سازش‘ کا انکشاف کیا گیا‘۔ بیان کیے گئے تاریخی واقعات اور ان کی صحت کی بحث میں جائے بغیراب اس نظریے کے کچھ دلائل بھی سنیے۔ ’سن انیس سو پانچ میں تقسیم بنگال کے خاتمےکےساتھ ہی بنگالیوں (ہندوستانی مسلمان نہیں) کو احساس ہوا کہ بنگالی مسلمانوں کا ایک الگ ملک ہونا چاہیے‘۔ ’سازش کے پہلے قدم کے طور پر انیس سو چھ میں مسلم لیگ بنائی گئی اور اصل عزائم چھپانے کی خاطر اس کو آل انڈیا مسلم لیگ کا نام دیا گیا‘۔ ’جماعت کے تقریباً تمام بانی ارکان بنگالی تھے‘۔
’انیس سو تیرہ میں تقسیم بنگال کے فیصلے کی تنسیخ کے باوجود بنگالی اس سازش پر عمل درآمد کو کافی آگے بڑھا چکے تھے‘۔ ’اس مرحلے پر بنگالی مملکت کے قیام کو برصغیر کے تمام مسلمانوں کا نصب العین بنانے کے لیے مسلم لیگ کی ظاہری قیادت اترپردیش اور وسطی ہندوستان کے مسلم رہنماؤں کے حوالے کی گئی کیونکہ بنگالی تنہا اس سازش کو کامیاب نہیں کرسکتے تھے لیکن باقی ہندوستان کے مسلمانوں کو پھسلا کر ضرور یہ مقصد حاصل ہوسکتا تھا‘۔ ’سن انیس سوسینتیس میں علامہ اقبال نےجب نظریۂ پاکستان کےخدوخال واضح کیے تو ان کی مخالفت بنگالیوں نے ہی کی کیونکہ علامہ اقبال اس سازش کو سمجھ چکے تھے‘۔ ’سن انیس سو اڑتیس میں علامہ اقبال کے انتقال سے اس بنگالی سازش کو سمجھنے والے واحد رہنما راستے سے دور ہوگئے‘۔ ’بائیس مارچ سن انیس سو چالیس کو اسی سازش کے اہم قدم کے طور پر ایک بنگالی اے کے فضل الحق نے قرارداد لاہور پیش کی۔ یہی اے کے فضل الحق بعد میں بنگال کے وزیراعلٰی بنے‘۔
’قائداعظم نے الگ مملکتوں کی ترکیب میں پنہاں سازش کو بھانپ کر اس کی مخالفت کی اور تئیس مارچ کو صرف اسی صورت میں قرارداد منظور ہوسکی جب اس میں ایک ملک کی بات کی گئی‘۔ ’کینیڈا میں آج بھی دو سرکاری زبانیں ہیں۔ یہ پاکستان میں بھی ہوسکتا تھا۔ لیکن سازش کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد ہوتے ہی، یعنی قیام پاکستان کے ساتھ ہی ایک اور بنگالی حسین شہید سہروردی نے قائداعظم کے کان بھرے کہ وہ صرف اردو کو قومی زبان بنادیں۔ یہ سازش کے دوسرے مرحلے کا پہلا اور بہت اہم قدم تھا جس سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا آغاز ہوا اور جو بالآخر سن انیس سو اکہتر میں بنگلہ دیش کے قیام پر منتج ہوا‘۔ یہ تو تھے دلائل لیکن قیام پاکستان کی بنگالی سازش پر یقین ملاحظہ فرمائیے کہ جب یہ بات کہی گئی کہ سازش کا یہ نظریہ تو ملک کے قیام اور بقاء کے تمام دلائل کو باطل کردیتا ہے تو جواب میں قائداعظم کی جانب سے قرارداد پاکستان میں ایک مملکت پر اصرار کو بین ثبوت کے طور پر پیش کردیا گیا۔ سازش کے اس نظریے کا ایک حاصل یہ بھی ہے کہ قائداعظم اور تحریک پاکستان کے تمام رہنما یا تواس میں شریک تھے یا پھر اتنے سادہ لوح اور احمق کے اس سازش کو سمجھ ہی نہ سکے۔ جب کہ پاکستان کے قیام کے مخالفین یعنی اس وقت کے نیشلسٹ مسلمان اور کانگریس چونکہ متحدہ ہندوستان کے علمبردار تھے، لہٰذا وہ قیام پاکستان کی سازش میں شریک نہیں ہوئے۔ اور اس تمام پر مستزاد یہ کہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین سانحے یعنی سقوط مشرقی پاکستان کے شارح اس ’عدیم المثال، نظریے کے پرچارک جرنیل کا گفتگو میں بار بار یہ بھی اصرار تھا کے فوج میں تین دہائیوں سے زیادہ پر محیط ان کی تربیت کا واحد محور پاکستان کی ’جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا ہرقیمت پر تحفظ‘ رہا ہے۔ اور اس ’بنگالی سازش‘ کا ایک امکانی نتیجہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ (خدانخواستہ، خاکم بدہن) تیس پینتیس برس بعد کوئی اور جنرل سندھ ، سرحد یا پنجاب میں صحافیوں کی ذہن سازی کرتے ہوئے انکشاف کرے کہ بلوچوں نے تو قیام پاکستان کے وقت ہی ملک سے علیحدہ تھے وہ تو قائداعظم کا دباؤ تھا کہ ریاست قلات پاکستان میں شامل ہوئی۔ |
اسی بارے میں بلوچستان: سکیورٹی فورسز پر حملہ26 March, 2006 | پاکستان کوہلو میں دھماکہ 1 ہلاک 13 زخمی23 March, 2006 | پاکستان بلوچستان: دھماکے، تین بچے زخمی22 March, 2006 | پاکستان بلوچستان: ایک ہلاک، سات زخمی 09 March, 2006 | پاکستان بلوچستان، ٹرین پر راکٹ حملہ 04 March, 2006 | پاکستان بلوچستان میں مظاہرے اور گرفتاریاں03 March, 2006 | پاکستان بلوچستان: ایک ہلاک، 5 زخمی 02 March, 2006 | پاکستان بلوچستان: پارٹی سربراہ ہلاک01 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||