مشرقی پاکستان کے آخری دن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بریگیڈیئر اے آر صدیقی، جو پاکستان کے معروف دفاعی تجزیہ نگار اور صحافی ہیں، مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی اور اس کے پاکستان سے علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بننے کے زمانے میں حکومت کا حصہ تھے اور اب انہوں نے اپنے چشم دید واقعات کو تینتیس سال بعد بالآخر ’ایسٹ پاکستان۔ دی اینڈ گیم: این اونلُکرز جرنل‘ کے نام سے کتابی شکل دی ہے۔ مصنف آجکل کراچی میں ریجنل انسٹی ٹیوٹ فار پیس اینڈ سیکیورٹی کے سربراہ ہیں۔ وہ انیس سو ستر کی دہائی کےشروع میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ اور اس وقت صدر مملکت اور چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر یحییٰ خان کے مشیر تھے۔ بریگیڈیئر صدیقی کو تاریخ ساز واقعات اور حکومت اور فوج کی اہم شخصیات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور ایوان اقتدار کی اندرونی کہانیوں سے باخبر ہوئے۔ وہ انیس سو انہتر سے انیس سو اکہتر تک کے ہنگامہ خیز زمانے میں ایک سے زیادہ مرتبہ ڈھاکہ بھی گئے۔ ان سب باتوں کو انہوں نے ایک ڈائری کی شکل میں لکھا ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کا ایک بڑا حصہ سرکاری طور پر سامنے آچکا ہے اور حسن ظہیر کی کتاب بھی اس موضوع پر ایک اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔ لیکن بریگیڈیئر صدیقی نے گو کوئی نیا پہلو اس حوالے سے ہمارے سامنے نہیں رکھا لیکن جو باتیں معلوم ہیں ان کی نئی تفصیلات اور جزئیات دکھا کر تاریخ کے اہم گوشے کو روشن کیا ہے۔ بریگیڈیئر صدیقی کی کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس سے مشرقی پاکستان کے واقعات ہی نہیں بلکہ فوج کی سیاست میں ملوث ہونے اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کی سوچ بھی واقعات کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ کس طرح یحیی خان اقتدار سنبھالنے سے ایک ماہ پہلے ہی ایوب خان کو ہٹا کر مارشل لا لگانا چاہتے تھے اور وہ سیاستدانوں کو بھیڑیے اور جوکرز قرار دیا کرتے تھے۔ بریگیڈیئر صدیقی نے بہت تفصیل سے نو ماہ تک ہونے والے فوجی کارروائی اور قتل و غارت کی کہانی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح فوج کے بعض افسر بنگالیوں کو سبق سکھانے کی باتیں کیا کرتے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے اس وقت ڈھاکہ میں تعینات میجر جنرل محمد حسین انصاری کی تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان میں فوج کی زیادتیوں پر نالاں تھے اور ان سے کہتے تھے کہ ہمیں ہر عورت سے ہونے والے زنا بالجبر اور ہر قتل کا حساب دینا پڑے گا۔ اس کے برعکس مشرقی پاکستان میں فوج کے کمانڈر جنرل اے کے نیازی کے بارے میں صدیقی لکھتے ہیں کہ وہ جوانوں کے غیر انسانی اور بہیمانہ حرکتوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے اور اپنی آنکھوں میں شیطانی چمک کے ساتھ فوجی جوانوں سے پوچھا کرتے تھے کہ ’شیرا کل رات تیرا اسکور کتنا رہا۔‘ یہاں اسکور سے مراد جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والی عورتوں کی تعداد سے ہوتی تھی۔ بریگیڈیئر صدیقی لکھتے ہیں کہ جنرل نیازی فوجیوں کی عورتوں کو بےحرمت کرنے کا دفاع کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ’آپ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ایک فوجی مشرقی پاکستان میں رہے ، لڑے اور مارا جائے اور جنسی عمل جہلم جاکر کرے۔‘ بریگیڈیئر صدیقی نے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان میں اقتدار کی منتقلی کے بارے میں بھی فوجی قیادت کی بات چیت پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل رحیم اصغر خان کو جبکہ بری فوج کے سربراہ گل حسن ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار دینا چاہتے تھے جس پر گل حسن نے ایئر مارشل رحیم سے کہا کہ آپ ایسے شخص کو اقتدار دینے کا کیسے سوچ سکتے ہیں جو عام انتخابات میں بری طرح ہار چکا ہے۔ بریگیڈیئر صدیقی نے فوج کا کچا چٹھا کھولنے کے ساتھ ساتھ موجودہ پاکستان اور اس وقت کے مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور عوام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو فوج پر اتنا دباؤ نہیں ڈال سکے کہ وہ مشرقی پاکستان میں وہ کچھ نہ کرتی جو اس نے کیا۔ اس بات سے بہت سے لوگ اختلاف کرسکتے ہیں لیکن مصنف کی فوج سے طویل وابستگی رہی ہے اور یوں لگتا ہے کہ وہ اس طرح اپنے ادارہ کا بالواسطہ دفاع کرنا چاہتے ہیں۔ کتاب کے آخر میں واقعات کی تاریخ وار روزنامچہ اور فوجی افسروں کے کچھ اہم خطوط شامل ہیں جو پہلی بار سامنے آئے ہیں۔ بریگیڈیئر صدیقی نے مشرقی پاکستان میں فوج کی مشرقی پاکستان میں زیادتیوں اور دوسری سچائیوں کو بیان کرنے میں تینتیس سال لگادیے لیکن دیر آید درست آید۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||