BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 April, 2006, 17:45 GMT 22:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارودی سرنگیں: بلوچستان ہلاکتیں

بلوچستان میں بارودی سرنگیں
بلوچستان میں بارودی سرنگوں سے 3 ماہ میں 20 سکیورٹی اہلکاروں، عورتوں اور بچوں سمیت 60 افراد ہلاک کے لگ بھگ 150 زخمی ہوئے ہیں۔

صوبہ بلوچستان میں جب سے حکومت نے مبینہ فوجی کارروائی شروع کی ہے اس کے بعد سے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے علاقوں میں بارودی سرنگیں پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اس سال ایک اندازے کے مطابق چھیالیس سے زیادہ شہری اور بیس کے لگ بھگ سکیورٹی اہلکار بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں جہاں سکیورٹی فورسز اور مقامی قبائل کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات ہیں وہاں آئے روز بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں جن میں عام شہری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

ایک سرکاری اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس سال کے ان تین ماہ میں کوئی پینسٹھ بارودی سرنگیں پھٹی ہیں جن سے چھیالیس شہری ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں ان میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اسی طرح بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے بیس سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پچاس کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں بم ناکارہ کرنے والے محکمے کے کمانڈر مختیار نے بتایا ہے کہ یہاں مختلف اقسام کی بارودی سرنگیں استعمال کی جا رہی ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ٹینک شکن بارودی سرنگوں کو اس طرح تبدیل کر دیا جاتا ہے کہ اگر ان پر ایک انسان کا وزن بھی پڑ جائے تو پھٹ جاتی ہیں جس سے نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ انسانوں کو نقصان پہنچانے والی بارودی سرنگوں پر اگر چھتیس پونڈ کا وزن پڑ جائے تو پھٹ جاتی ہے جب کے تبدیل کیے بغیر ٹینک شکن بارودی سرنگ ٹینک کے برابر یا ایک ٹن سے زیادہ وزن پڑن پر پھٹتی ہے۔

ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے صورتحال کے حوالے سے اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آخر یہ بارودی سرنگیں کون بچھا رہا ہے۔ حکومت قبائلیوں پر الزام عائد کر رہی ہے جبکہ بگٹی قبائل کا کہنا ہے کہ یہ سرنگیں حکومتی اہلکاروں اور قبائلیوں نے اپنے اپنے دفاع کے لیے بچھا رکھی ہیں۔

سینیٹر آغا شاہد بگٹی نے کہا ہے کہ بگٹی قبائلیوں نے فورسز کے حملے روکنے کے لیے ان کے راستے میں بارودی سرنگیں ضرور بچھائی ہیں لیکن عام آدمی کے راستے میں بارودی سرنگ بچھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ انھوں نے کہا کہ غالب گمان یہی ہے کہ یہ سرنگیں حکومتی اہلکاروں نے بچھائی ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے اس الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ حکومتی اہلکاروں کو بارودی سرنگیں بچھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے بلوچستان کے عہدیدار ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اس ساری صورتحال میں ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے۔

بارودی سرنگوں بارود کے مقتول
پاکستان میں بارودی سرنگوں سے68 ہلاک
کھیوڑہنمک کا شہر
کھیوڑہ میں دنیا میں نمک کا سب سے بڑا ذخیرہ
اسی بارے میں
بارودی سرنگ پھٹنے سے3 ہلاک
10 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد