’بلوچ آرمی کا کوئی وجود نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی نامی تنظیم کوئی وجود نہیں رکھتی بلکہ چار سے پانچ ہزار افراد ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور اب بولان میں اس نام کی آڑ میں پرتشدد کارروائیاں کر رہے ہیں۔ بلوچ لبریشن آرمی نامی تنظیم کے بارے میں صوبائی وزیر نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت آج بھی اس موقف پر قائم ہیں کہ یہ تنظیم کوئی وجود نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ جو مری اور بگٹی علاقوں میں حکومت کے خلاف سرگرم ہیں اس نام کی آڑ میں تشدد آمیز کارروائیاں کر رہے ہیں۔ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جارہی ہے توانہوں نے کہا کہ جہاں کہیں ان کے بارے میں کچھ معلوم ہوتا ہے تو حکومت ضرور کوشش کرتی ہے لیکن کوئی بڑی کارروائی کا کوئی منصوبہ ابھی تک شروع نہیں کیا گیا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے جب پوچھا گیا کہ اس پابندی یا اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دینے سے کیا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ اس سے تنظیم کو ملنے والی مالی امداد رک جائے گی اور اب یہ لوگ آزادی سے کام نہیں کر سکیں گے۔ اس تنظیم کے بارے میں مختلف آرا بیان کی جاتی رہی ہیں۔ بلوچستان میں تشدد آمیز کارروائیوں کے بعد اکثر آزاد بلوچ، دودا بلوچ اور میرک بلوچ نامی افراد کے ٹیلی فون ذرائع ابلاغ کو موصول ہوتے رہے ہیں جن میں ان واقعات کی ذمہ داری قبول کی جاتی تھی۔ بلوچستان میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں کوئی باقاعدہ وجود تو نہیں رکھتیں لیکن کچھ تعداد میں لوگ بعض نکات پر متفق ہیں اور وہ مبینہ طور پر بلوچستان کے حقوق کےلیے کوششیں کر رہے ہیں۔ بلوچ روایات کے مطابق مزاحمت کے لیے کئی مرتبہ لوگ پہاڑوں پر گئے ہیں اور وہاں انہوں نے حکومت کے خلاف تشدد آمیز کارروائیاں کی ہیں۔ بلوچستان میں ان دنوں تیسری مرتبہ مبینہ فوجی کارروائی کی جارہی ہے۔ پہلی کارروائی فیلڈ مارشل ایوب کے دور میں انیس سو اٹھاون میں کی گئی دوسری کارروائی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ستر کی دہائی میں کی گئی۔ بلوچ قائدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تحریکیں تو ماضی میں کام کرتی رہی ہیں لیکن پاکستان حکومت آزادی کے بعد سے اس صوبے کو مسلسل نظر انداز کرتی آ رہی ہے۔ ثنا بلوچ نے کہا ہے کہ اس صوبے کے وسائل اور اس کی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے اس صوبے کو ترقی نہیں کرنے دی گئی اور مختلف بہانوں کی آڑ میں فوجی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے کوئٹہ کے ایک دورے کے دوران کہا تھا کہ اس صوبے کے ساتھ ماضی میں زیادتیاں ہوئی ہیں اور ان زیادتیوں کی وہ بلوچستان کے لوگوں سے معافی مانگتے ہیں۔ ستر کی دہائی میں بلوچستان پیپلز لبیرشن فرنٹ اور بلوچ لبریشن آرگنائزیشن کے نام نمایاں رہے تھے۔ اب کوئی تین سے چار سال پہلے بلوچ لبریشن آرمی کا نام ذرائع ابلاغ میں اٹھایا جانے لگا ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان لِبریشن آرمی پر پابندی09 April, 2006 | پاکستان مینگل احتجاج،’ تین فوجی ہلاک‘08 April, 2006 | پاکستان بارودی سرنگیں: بلوچستان ہلاکتیں04 April, 2006 | پاکستان اختر مینگل کے گھر کا پانی بند08 April, 2006 | پاکستان بلوچ دھماکے: فوجی سمیت سات ہلاک02 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||