BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 July, 2006, 12:00 GMT 17:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فضائی حملوں کے بعد خاموشی

 ڈیرہ بگٹی
ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں گزشتہ سال دسمبر میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی
ڈیرہ بگٹی میں بدھ کو ہونے والے حملوں اور جھڑپوں کے بعد جمعرات کو خاموشی رہی لیکن علاقے میں خوف کی فضا برقرار ہے۔

جمعرات کو مقامی سطح پر لوگوں سے رابطے نہیں ہو پا رہے اور جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی کا بھی کہنا ہے کہ ان کا بھی ڈیرہ بگتی سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔

سوئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بھی علاقے میں خاموشی رہی اور ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کی آوازیں سنائی نہیں دی گئیں۔

بگٹی قبائلیوں کے ایک نمائندے وڈیرہ عالم خان نے کوئٹہ کے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اکتیس افراد کی ہلاکت کا سرکاری دعوٰی بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے صرف اپنے لوگوں کو علاقے سے نکالا ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حملے تین اور چار تاریخ کو کیئے تھے جہاں بگٹی قبائلیوں سے ان کی جھڑپیں ہوئیں اور اس میں سکیورٹی فورسز کے پینتیس سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے اور تین ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے سنگسیلہ کے مقام پر کارروائی کی تھی جس میں مسلح قبائلیوں کے اکتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز کو کوئی لاش نہیں ملی بلکہ یہ معلومات انہیں قبائلیوں کے’کمیونیکیشن سسٹم‘ سے ملی ہیں۔

ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں گزشتہ سال دسمبر میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی جس میں بگٹی اور مری قبائلیوں کے بقول ابتدائی تین ماہ میں تقریباً دو سو افراد ہلاک اور چار سو زخمی ہوگئے تھے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

سرکاری سطح پر ان دعووں کی تصدیق نہیں گی گئی اور حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی فرنٹیئر کور نے شروع کی ہے اور اس کا مقصد ان کیمپوں کو ختم کرنا ہے جہاں راکٹ باری اور بم دھماکوں میں ملوث افراد ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں جبکہ
بلوچ قوم پرست قائدین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے یہ کارروائی بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے شروع کی ہے۔

ویب سائٹویب سائٹ پر دعویٰ
جلاوطن حکومت اور بلوچوں کی تردید
’حالت خراب ہے‘
بلوچستان سے ڈھائی لاکھ افراد کی نقل مکانی
سیمینار: خودمختاری
بلوچستان میں فوجی کارروائی روکنے کا مطالبہ
بلوچرپورٹر کی ڈائری
’بی ایل اے سے میرا رابطہ 7 برس قبل ہوا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد