فضائی حملوں کے بعد خاموشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ بگٹی میں بدھ کو ہونے والے حملوں اور جھڑپوں کے بعد جمعرات کو خاموشی رہی لیکن علاقے میں خوف کی فضا برقرار ہے۔ جمعرات کو مقامی سطح پر لوگوں سے رابطے نہیں ہو پا رہے اور جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی کا بھی کہنا ہے کہ ان کا بھی ڈیرہ بگتی سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔ سوئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بھی علاقے میں خاموشی رہی اور ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کی آوازیں سنائی نہیں دی گئیں۔ بگٹی قبائلیوں کے ایک نمائندے وڈیرہ عالم خان نے کوئٹہ کے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اکتیس افراد کی ہلاکت کا سرکاری دعوٰی بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سکیورٹی فورسز نے صرف اپنے لوگوں کو علاقے سے نکالا ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حملے تین اور چار تاریخ کو کیئے تھے جہاں بگٹی قبائلیوں سے ان کی جھڑپیں ہوئیں اور اس میں سکیورٹی فورسز کے پینتیس سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے اور تین ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے سنگسیلہ کے مقام پر کارروائی کی تھی جس میں مسلح قبائلیوں کے اکتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ سکیورٹی فورسز کو کوئی لاش نہیں ملی بلکہ یہ معلومات انہیں قبائلیوں کے’کمیونیکیشن سسٹم‘ سے ملی ہیں۔ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں گزشتہ سال دسمبر میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی جس میں بگٹی اور مری قبائلیوں کے بقول ابتدائی تین ماہ میں تقریباً دو سو افراد ہلاک اور چار سو زخمی ہوگئے تھے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ سرکاری سطح پر ان دعووں کی تصدیق نہیں گی گئی اور حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی فرنٹیئر کور نے شروع کی ہے اور اس کا مقصد ان کیمپوں کو ختم کرنا ہے جہاں راکٹ باری اور بم دھماکوں میں ملوث افراد ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں جبکہ |
اسی بارے میں ’ڈیرہ بگٹی پر فضائی حملے‘05 July, 2006 | پاکستان بلوچستان: دھماکے اور راکٹ باری04 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||