سیمینار: فوجی آپریشن اور صوبائی خودمختاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (نواز)، بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں نے بلوچستان اور وزیرستان میں فوجی کارروائی بند اور 1973 کا آئین بحال کرکے صوبائی خودمختاری دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کوئٹہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیراہتمام سیمینار میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے مرکزی اور صوبائی قائدین نے فوجی حکمرانوں کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ بلوچستان اور وزیرستان میں فوجی کارروائی بلاجواز ہے۔ یہ سیمینار انیس سو تہتر کا آئین اور صوبائی خود مختاری کے موضوع پر ایم پی اے ہا سٹل کے سبزہ زار پر منعقد کیا گیا تھا جہاں اس وقت شدیدگرج چمک کرکے ساتھ بارش شروع ہوگئی جب بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کے قائدین حکومت کے خلاف تقریریں کر رہے تھے۔ پیپلز پارٹی کے قائدین شاہ محمود قریشی، بابر اعوان اور دیگر نے انیس سو تہتر کے آئین کا دفاع کیا اور کہا کہ اسے انیس سو تہتر کی پہلی حالت میں بحال کیا جائے اور اگر ضرورت محسوس ہو تو اس آئین میں رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیڈر اور سابق وزیراعلی سردار اختر مینگل نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پالیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ نیا آئین تیار کیا جائے جس میں صوبوں کو مکمل اختیار حاصل ہو اور وفاق کے پاس صرف چار محکمے ہو نے چاہئیں۔
جسٹس (ریٹائرڈ) طارق محمود نے بھی اس سیمینار سے خطاب کیا اور کہا کہ اسلام آباد میں شاہراہ جمہوریت کا نام تبدیل کرکے شاہراہ آمریت رکھ دینا چاہیے کیونکہ اسی شاہراہ سے جب پرانے بادشاہوں کی طرح جنرل پرویز مشرف کی سواری گزرتی ہے تو لوگوں کو اس شاہراہ پر رکنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی چہ جائکہ کسی نے بہت ضروری کام سے ہی کیو نہ گزرنا ہو۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں غلطیوں کے بعد وہاں جا کر معافی مانگی گئی ایسا نہ ہو کہ اب اس مرتبہ بلوچستان میں انہیں معافی مانگنی پڑے۔ شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر میں کہا کہ پنجاب کے عوام کو بلوچوں کی سسکیوں کے بارے میں سوچنا چاہیئے اور اس حوالے سے پیپلز پارٹی پنجاب کا وفد یہاں کوئٹہ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کے ساتھ بڑی زیادتیاں کی گئیں جن کا انہیں بہت احساس ہے۔ ڈاکٹر عبدالحئی نے کہا کہ آج ایک مرتبہ پھر بلوچستان ببانگ دہل ہرآول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے اور فوجی حکمرانوں کے حملوں کا دفاع کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے خود 1973 کے آئین پر دستخط نہیں کیے تھے لیکن اب وہ یہ آئین بھی تسلیم کر لیں گے اگر ان فوجی حکمرانوں سے جان چھڑانے کے لیے بڑی جماعتیں آگے آئیں۔
جمہوری وطن پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات امان اللہ کنرانی نے کہا کہ اب بات صوبائی خود مختاری سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نے خود پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا لیکن بدلے میں اس صوبے کو پسماندگی اور غربت سے نوازا گیا اور فوجی کارروائیوں سے یہاں کے لوگوں پر جیٹ طیاروں توپوں اور دیگر جدید اسلحے سے بمباری کی گئی۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے بلوچستان میں پشتونوں کے لیے پرانا چیف کمشنر صوبے کے قیام کا مطالبہ دہرایا ہے اور کہا ہے کہ تمام قوموں کو ان کے وسائل پر مکمل اختیار دیا چاہیے۔ |
اسی بارے میں بگٹی قبیلے کی خواتین کا مظاہرہ16 February, 2006 | پاکستان بارودی سرنگ سے 26 ہلاک10 March, 2006 | پاکستان ’مشرف بش کا غصہ ہم پر نکال رہا ہے‘15 March, 2006 | پاکستان کوئٹہ، کالج کے قریب بم دھماکہ15 March, 2006 | پاکستان مینگل کےگھر کے محاصرے پر احتجاج05 April, 2006 | پاکستان بارودی سرنگیں: بلوچستان ہلاکتیں04 April, 2006 | پاکستان بلوچی ٹی وی چینل کی تیاریاں 04 April, 2006 | پاکستان بلوچستان: سکیورٹی فورسز پر حملہ26 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||