بی ایل اے، تنظیم یا صرف ایک نام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا نام ستر کی دہائی میں سامنے آیا اور اس کے بعد سے تنظیم کے بارے میں مختلف بیانات شائع ہوئے لیکن آج تک اس تنظیم کے مکمل خدوخال ظاہر نہیں ہو سکے۔ اس تنظیم پر پابندی اور اسے دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے حوالے سے متضاد آراء سامنے آئی ہیں۔ حکومت کے حمایتی اس فیصلے کو سراہتے ہیں اور اسے امن کے قیام کے لیے ضروری سمجھتے ہیں جبکہ حکومت کے مخالف اسے اہم فیصلہ قرار نہیں دیتے بلکہ ان کا موقف ہے کہ حکومت کو سنجیدگی سے مسئلے کی جڑ تک پہنچ کر اس کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ بلوچستان میں اس تنظیم کی جانب سے کئی تشدد آمیز واقعات کی ذمہ داریاں قبول کی گئی ہیں لیکن یہ ذمہ داریاں قبول کرنے والے افراد کون ہیں کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اس تنظیم کا ڈھانچہ کیا ہے اور اس کا سربراہ کون ہے کبھی اس بارے میں کسی کو نہیں بتایا گیا۔ حالیہ عرصہ میں سن دو ہزار تین اور دو ہزار چار میں آزاد بلوچ کانام سامنے آیا اور اس تنظیم نے تشدد کے مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کی۔ ان واقعات میں مختلف تنصیبات، سکیورٹی فورسز اور فرنٹیئر کور پر حملے شامل تھے۔ اس کے بعد مختلف افراد اپنے آپ کو آزاد بلوچ کہہ کر اس تنظیم کے نام سے ذمہ داریاں قبول کرنے لگے۔ بلوچ لبریشن فرنٹ کی جانب سے بھی تشدد آمیز کارروائیوں کی ذمہ داریاں قبول کی جاتی رہی ہیں۔ یہ تنظیموں بعض اوقات ایک ہی تنظیم اور بعض اوقات دیگر تنظیموں کے ساتھ مشترکہ طور پر تشدد آمیز کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ یہ تنظیم کوئی باقاعدہ طور پر منظم نہیں ہے بلکہ یہ صرف ایک نام ہے جس کی آڑ میں تشدد آمیز کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ اس تنظیم میں کتنے افراد ہیں اور ان کے کتنے کیمپ ہیں یہ کوئی نہیں جانتا، صرف ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ معلوم ہوتا رہا ہے کہ ان کی تعداد چار سے پانچ ہزار ہے اور ان کے چالیس سے پچاس کیمپ ہیں جو مختلف مقامات پر قائم ہیں جن میں سے بیشتر بیشتر ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے علاقوں میں ہیں۔ بلوچ قوم پرست جماعتیں ان تنظیموں سے وابستگی سے تو انکار کرتی ہیں لیکن ان تنظیموں کے ایجنڈے کو مسترد نہیں کرتیں بلکہ ان کا موقف یہی رہا ہے کہ جب وفاقی حکومت سیاسی اور جمہوری طریقے سے بات نہیں کرتی تو دوسرا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ بلوچ لبریشن فرنٹ نامی تنظیم کے ایک ترجمان دودا بلوچ نے کہا ہے کہ وہ دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ اپنے وطن کے دفاع اور بلوچستان کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان لِبریشن آرمی پر پابندی09 April, 2006 | پاکستان ’بلوچ آرمی کا کوئی وجود نہیں‘09 April, 2006 | پاکستان پاکستان کا قیام، بنگالیوں کی سازش؟30 March, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے، تین افراد ہلاک02 April, 2006 | پاکستان بارودی سرنگیں: بلوچستان ہلاکتیں04 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||