BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 May, 2006, 11:07 GMT 16:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بگٹی خواتین مالی امداد دیتی ہیں‘

ڈیرہ بگٹی
حکام کا دعوی ہے کہ بہت سے بگٹی ہتھیار بھی ڈال چکے ہیں
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے خاندان کی تین خواتین فراری کیمپوں کے لیے مالی مدد فراہم کرتی رہی ہیں اور اس بنا پر ان کے نام ملک سے باہر جانے والوں پر پابندی کی فہرست یعنی ’ای سی ایل‘ میں داخل کیئے گئے ہیں۔

پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں انہوں نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس اس بارے میں ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ عدالت میں جائے اور حکومت ثبوت پیش کردے گی۔

وزیر داخلہ نے یہ بیان حزب مخالف کے اراکین رضا ربانی اور آغا شاہد بگٹی کی جانب سے جمعرات کو اٹھائے گئے ایک نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے دیا۔

صوبہ بلوچستان سے منتخب سینیٹر آغا شاہد بگٹی نے نکتہ اعتراض پر کہا تھا کہ ان کا اور نواب اکبر بگٹی کے خاندان کی تین پردہ نشین خواتین سمیت ان کے اہل خانہ کے گیارہ افراد کے نام ’ای سی ایل، میں درج کیے گئے ہیں ۔ جوکہ ان کے مطابق ایک شرمناک عمل ہے۔

انہوں

ڈیرہ بگٹی میں گزشتہ سال فوجی کارروائی کے خلاف پہلی مرتبہ مظاہرہ بھی کیا تھا
نے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواب بگٹی کے خاندان کی تین پردہ نشین خواتین کا زندگی بھر کبھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی وہ عوامی زندگی میں نمودار ہوئیں لیکن حکومت نے ان کے نام ’ای سی ایل‘ میں درج کرکے ذاتی اور خاندانی معاملات میں مداخلت کی ہے جو کہ ان کے بقول غلط قدم ہے۔

جمہوری وطن پارٹی کے سینیٹر نے ایوان میں کہا تھا کہ انہیں جو خط موصول ہوا ہے اس میں درج ہے کہ وزارت داخلہ نے اس کی کاپیاں تین خفیہ ایجنسیوں، ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ، انٹر سروسز انٹیلی جنس اور انٹلی جنس بیورو سمیت مختلف محکموں کو بھیجی ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ انٹیلی جنس اداروں کو اس خط کی کاپیاں بھیجنے سے انہیں لگتا ہے کہ یہ کارروائی خفیہ اداروں کے ایما پر کی گئی ہے۔

انہوں نے ایوان میں موجود وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ سے سوال بھی کیا تھا کہ’ کیا یہ آپ کا اختیار ہے یا کسی فوجی افسر کا؟‘

آغا شاہد بگٹی نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ جو بدعنوانیوں میں ملوث افراد کو تو حکومت چھوڑ دیتی ہے اور جو حق کی بات کرتے ہیں انہیں جعلی مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے۔

انہوں نے بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جن گیارہ افراد کے نام ’ای سی ایل، میں شامل کیئے گئے ہیں ان میں نواب اکبر بگٹی، سردار عطاءاللہ مینگل، شاہد بگٹی، مرتضیٰ بگٹی، میر عالی سلیم اکبر بگٹی اور ان کی والدہ، طلال اکبر بگٹی اور ان کی اہلیہ ( سلیم جان مزاری کی بہن) ، ریحان اکبر بگٹی اور ان کی اہلیہ اور منیر مینگل ( بلوچ وائس ٹی وی) شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قبل ازیں حکومت نے جمیل اکبر بگٹی، امان اللہ کنرانی، ضلع ناظم ڈیرہ بگٹی محمد کاظم بگٹی، ضلع ناظم کوہلو علی گل انجنیئر، شیر علی مزاری اور رکن اسمبلی عبدالرؤف مینگل کے نام ’ای سی ایل‘ میں شامل کرچکی ہے۔ مجموعی طور پر بگٹی، مینگل اور مری خاندان کے سترہ افراد کے نام ’ای سی ایل‘ میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کے روز مسلم لیگ نواز کے رکن اسحٰق ڈار نے اپنی جماعت کے رکن اسمبلی خواجہ سعد رفیق کو پنجاب حکومت کی جانب سے حراساں کرنے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر جو مقدمات درج کیے گئے ہیں ان میں ضمانت منظور ہونے کے بعد ان پر نئے مقدمات بنائے جاتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے بھی اس کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ حکومت حزب مخالف کے اراکین کو سیاسی مخالفت کی بنا پر انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے حکومتی کارروائیوں کے خلاف واک آؤٹ بھی کیا تھا۔

جس پر وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ خواجہ سعد رفیق پر مقدمات کا معاملہ پنجاب حکومت سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے ’چارٹر‘ میں نہیں آتا۔

اسی بارے میں
پاکستان جہادی ہے
09 May, 2006 | قلم اور کالم
ڈیرہ بگٹی میں واپسی
16 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد