BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 May, 2006, 17:15 GMT 22:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی میں واپسی

ڈیرہ بگٹی
قبائلی کشمکش کی بنا پر بہت سے لوگ چند سال پہلے علاقے سے ہجرت کر گئے تھے
ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیکڑ میں منگل کو دو سو افراد کا ایک اور قافلہ رکھنی سے دوبارہ آباد ہونے پہنچا ہے جبکہ ضلع کوہلو میں کاہان ’ کرمو وڈھ اور ناڑی گاٹھ کے علاقوں میں مسلح قبائل اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے سوئی سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ مختلف علاقوں سے نکالے گئے لوگوں کی دوبارہ آبادکاری کا سلسلہ جاری ہے ۔ منگل کو مسوری بگٹی قبیلے کے دو سو افراد رکھنی سے بیکڑ پہنچے ہیں۔

دشوار گزار علاقے سے گزر کر یہ لوگ اپنے علاقے میں پہنچے

بیکڑ میں قبائلی تنازع کی وجہ سے لوگ اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسرے قریبی علاقے جیسے ڈیرہ غازی خان بارکھان اور رکھنی میں آباد ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے سوئی ڈیرہ بگٹی اور بیکڑ میں قبائلی دشمنی کی بنیاد پر نکالے گئے لوگ واپس پہنچ چکے ہیں۔

جعفر آباد سے آمدہ اطلاعات کے مطابق حالیہ فوجی کارروائی اور ان لوگوں کو دوبارہ آباد کرنے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ ڈیرہ بگٹی اور سوئی سے نکلے ہیں وہ اب تک قریبی علاقوں میں بے آسرا پڑے ہیں جہاں انہیں خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں لڑ کیوں اور لڑکوں کے پرائمری اور مڈل سکول کھل گئے ہیں جبکہ لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پانی اور بجلی کی فراہمی کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ سرکاری ملازمین کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے ایک پیکج پر کام کیا جا رہا ہے جس میں ہر ملازم کو پانچ ہزار روپے دیے جائیں گے۔

اگر حکومت زمینداروں کو مفت بجلی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائے تو وہ ہمیشہ کے لیے بجلی کی تنصیبات پر حملے نہیں کریں گے۔
کلعدم تنظیم کے نمائندہ میرک بلوچ

انہوں نے کہا ہے کہ اب بھی ڈیرہ بگٹی میں سنگسیلہ لہڑی روڈ اور ڈیرہ بگٹی بیکڑ روڈ کے ساتھ ساتھ کچھ اور علاقوں میں مزاحمت کا سامنا ہے۔

ادھر کوہلو سے آمدہ اطلاعات کے مطابق کاہان کرمو وڈھ اور ناڑی گاٹھ کے علاقے میں مسلح قبایلیوں اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے مابین شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ٹیلیفون پر ایک شخص نے اپنا نام میرک بلوچ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ کلعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا نمائندہ ہے۔ میرک بلوچ نے کہا کہ ان جھڑپوں میں ایف سی کے اہلکاروں کا جانی نقصان ہوا ہے ۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

کلعدم تنظیم کے نمائندہ میرک بلوچ نے کہا ہے کہ میاں غنڈی میں بجلی کے کھمبوں پر حملے ان کے لوگوں نے نہیں کیے اور وہ آج بھی اس بات پر قائم ہیں کہ پینتالیس دنوں تک وہ بجلی کے کھمبوں پر حملے نہیں کریں گے اور اگر حکومت زمینداروں کو مفت بجلی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائے تو وہ ہمیشہ کے لیے بجلی کی تنصیبات پر حملے نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد