ڈیرہ بگٹی میں واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ بگٹی کے علاقے بیکڑ میں منگل کو دو سو افراد کا ایک اور قافلہ رکھنی سے دوبارہ آباد ہونے پہنچا ہے جبکہ ضلع کوہلو میں کاہان ’ کرمو وڈھ اور ناڑی گاٹھ کے علاقوں میں مسلح قبائل اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے مابین جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے سوئی سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ مختلف علاقوں سے نکالے گئے لوگوں کی دوبارہ آبادکاری کا سلسلہ جاری ہے ۔ منگل کو مسوری بگٹی قبیلے کے دو سو افراد رکھنی سے بیکڑ پہنچے ہیں۔
بیکڑ میں قبائلی تنازع کی وجہ سے لوگ اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسرے قریبی علاقے جیسے ڈیرہ غازی خان بارکھان اور رکھنی میں آباد ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے سوئی ڈیرہ بگٹی اور بیکڑ میں قبائلی دشمنی کی بنیاد پر نکالے گئے لوگ واپس پہنچ چکے ہیں۔ جعفر آباد سے آمدہ اطلاعات کے مطابق حالیہ فوجی کارروائی اور ان لوگوں کو دوبارہ آباد کرنے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ ڈیرہ بگٹی اور سوئی سے نکلے ہیں وہ اب تک قریبی علاقوں میں بے آسرا پڑے ہیں جہاں انہیں خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ ضلعی رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے بتایا ہے کہ ڈیرہ بگٹی میں لڑ کیوں اور لڑکوں کے پرائمری اور مڈل سکول کھل گئے ہیں جبکہ لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پانی اور بجلی کی فراہمی کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ سرکاری ملازمین کو دوبارہ آباد کرنے کے لیے ایک پیکج پر کام کیا جا رہا ہے جس میں ہر ملازم کو پانچ ہزار روپے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اب بھی ڈیرہ بگٹی میں سنگسیلہ لہڑی روڈ اور ڈیرہ بگٹی بیکڑ روڈ کے ساتھ ساتھ کچھ اور علاقوں میں مزاحمت کا سامنا ہے۔ ادھر کوہلو سے آمدہ اطلاعات کے مطابق کاہان کرمو وڈھ اور ناڑی گاٹھ کے علاقے میں مسلح قبایلیوں اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے مابین شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ٹیلیفون پر ایک شخص نے اپنا نام میرک بلوچ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ کلعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا نمائندہ ہے۔ میرک بلوچ نے کہا کہ ان جھڑپوں میں ایف سی کے اہلکاروں کا جانی نقصان ہوا ہے ۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان رازق بگٹی سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ کلعدم تنظیم کے نمائندہ میرک بلوچ نے کہا ہے کہ میاں غنڈی میں بجلی کے کھمبوں پر حملے ان کے لوگوں نے نہیں کیے اور وہ آج بھی اس بات پر قائم ہیں کہ پینتالیس دنوں تک وہ بجلی کے کھمبوں پر حملے نہیں کریں گے اور اگر حکومت زمینداروں کو مفت بجلی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائے تو وہ ہمیشہ کے لیے بجلی کی تنصیبات پر حملے نہیں کریں گے۔ | اسی بارے میں ’لوگوں کی حالت بہت خراب ہے‘24 April, 2006 | پاکستان بلوچ رہنما ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر30 April, 2006 | پاکستان فوجی کارروائی کے خلاف ہڑتال03 May, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی، کچھ افراد کی واپسی08 May, 2006 | پاکستان سوئی: تحصیلدار اور دو لیویز اغوا 13 May, 2006 | پاکستان اکبر بگٹی پر قتل کا مقدمہ14 May, 2006 | پاکستان تحصیلدار قتل، 3 کھمبے اڑا دیے گئے15 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||