BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 April, 2006, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ رہنما ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر

اکبر بگٹی
نواب اکبر بگٹی اور ان کے بیٹوں پر کئی مقدمات بھی قائم کیئے جاچکے ہیں
بلوچ رہنما اکبر بگٹی اور عطااللہ مینگل سمیت گیارہ افراد کے بیرون ملک سفر کرنے پر بھی پابندی عائد ہو چکی ہے۔ ان میں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے ضلعی ناظمین میں شامل ہیں۔

پاکستان کی وزراتِ داخلہ کے ایک اعلامیے کے مطابق جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ اکبر بگٹی، آغا شاہد بگٹی، عطااللہ مینگل سمیت اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی، پوتے میر علی عرف عبدو بگٹی، بھتیجے مرتضیٰ بگٹی، بہو رضیہ سلطانہ بگٹی، فوزیہ بگٹی، بلوچ ٹی وی کے ایم ڈی منیر مینگل اور ہمایوں خان مری کے نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ میں شامل کر لیئے گئے ہیں۔

جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی عبدالرؤف مینگل، نواب اکبر بگٹی کے بھانجے شیر علی مزاری اور وہ خود (امان اللہ کنرانی) اسلام آباد سے جاری ہونے والی اس ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہیں۔

سابق سینیٹر امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ یہ حکومت کی بوکھلاہٹ ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت کا ایک اہم اجلاس جولائی میں لندن میں منعقد ہوگا اور حکومت یہ نہیں چاہتی کہ بلوچستان سے متعلق معلومات وہاں فراہم کی جا سکیں۔

اس بارے میں نوٹیفیکیشن چوبیس اپریل کوسیکرٹری داخلہ کے حکم پر کیا گیا ہے۔

شیر علی مزاری سردار شیر باز مزاری کے صاحبزادے اور سابق قائم مقام وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کے بھتیجے ہیں۔ شیر علی مزاری گزشتہ سال مارچ میں ڈیرہ بگٹی میں فرنٹیئر کور اور مقامی بگٹی کے قبائل کے مابین جھڑپ کے بعد مذاکرات میں شامل تھے۔ یہ مذاکرات چوہدری شجاعت حسین اور سید مشاہد حسین نے ڈیرہ بگٹی میں نواب اکبر بگٹی کے ساتھ کیے تھے جس کے بعد دونوں جانب سے مورچے خالی کر دئیے گئے تھے۔

دو اپریل کو جاری ہونے والے اس اعلامیے کی کاپی وزیر اعظم سیکریٹریٹ، جی ایچ کیو، ملٹری انٹیلیجنس، وفاقی تحقیقاتی ادارے، قومی احتساب بیورو اور آئی ایس آئی کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔

سردار عطااللہ مینگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس پابندی کی تصدیق کی اور کہا کہ حکومت نے یہ قدم ملٹری انٹیلی جنس کی سفارش پر اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کو فوج ہی چلا رہی ہے، اس لیئے ہر حکم ان ہی کا چلتا ہے۔ اس سے قبل اختر مینگل پر بھی ایسی پابندی عائد کی گئی تھی مگر عدالت نے اسے رد کیا۔ عدالت کے حکم کے باوجود ان پر دوبارہ پابندی عائد کر دی گئی۔

عطااللہ مینگل کے مطابق ان کے پاس برطانوی شہریت بھی ہے، مگر وہ یہاں ہی رہیں گے اور کہیں نہیں جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں ہفتے کے روز یہ خط ملا ہے جسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اکبر بگٹی ایک طویل عرصے سے گوریلا کارروائیوں میں سرگرم ہیں جبکہ سردار عطااللہ مینگل پر ایک مہینے قبل ملٹری انٹیلیجنس کے دو اہلکاروں پر تشدد اور اغوا کے مقدمات درج کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد کراچی میں سردار عطااللہ مینگل کے گھر کا ایک ہفتے محاصرہ کیا گیا۔

اسی بارے میں
اکبر بگٹی پر مزید مقدمات درج
22 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد