پاکستان جہادی ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پر تین حصوں کی سیریز کے سلسلے کی دوسری کڑی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے جب صوبہ سرحد میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے جس چیز پر نظر رکی وہ سڑک کے کنارے حکومتِ سرحد کی طرف سے لگائی گئی ہورڈنگ یا چھوٹے چھوٹے اشتہارات تھے۔ ان میں سے ایک کچھ اس طرح سے تھا۔ ’جہاد قیامت تک جاری رہے گا‘۔ حکومتِ سرحد۔ عام حالات میں شاید اس کی طرف توجہ نہ جاتی لیکن میران شاہ اور جنوبی وزیرستان میں حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی اور اس وجہ سے ہونے والی سینکڑوں بے وجہ ہلاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کی طرف سے ہی لگایا گیا یہ اشتہار مزید معنی خیز ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں دو ہفتے کے قیام کے دوران کتنے افراد کی ہلاکتوں کی خبریں پڑھی یا ان کے کتنی دیر کے فوٹیج ٹی وی پر دیکھے اس کا تو حساب نہیں رکھا لیکن ایسا ضرور محسوس ہوا کہ ان میں سے زیادہ تر کسی نہ کسی طرح مذہب یا جہاد سے تعلق رکھتی تھیں۔ کراچی میں قیام کے دوران بی بی سی کے سینیئر صحافی اور شفیق دوست ادریس بختیار کے گھر کی طرف جاتے ہوئے ایک عمارت پر نظر پڑی۔ رات کے وقت روشنی میں نہائی ہوئی وہ عمارت نہایت قد آور معلوم ہوئی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کوئی شاپنگ سینٹر نہیں بلکہ ایک مدرسے کی عمارت ہے اور اس کا نام فیضانِ مدینہ ہے۔ نو اپریل کو ہی فیضانِ مدینہ کے متعلق خبر آ گئی۔ عید میلادالنبی کے موقع پر منعقد ہونے والی ایک محفلِ میلاد میں ایسی بھگدڑ مچی کہ اس میں پانچ بچوں سمیت چوبیس خواتین ہلاک ہو گئیں۔ بھگدڑ اس وقت مچی جب خواتین محفلِ میلاد کے اختتام پر مسجد کے داخلی راستے سے باہر جا رہی تھیں۔ مسجد سے باہر نکلتے وقت ایک لڑکی گر پڑی اور اس کے بعد خواتین میں افرا تفری پھیل گئی۔ اب تک یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ بھگڈر کے پیچھے کوئی سازش تھی یا نہیں۔ اور نہ ہی یہ ثابت ہو سکا کہ معصوم جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہے۔ اس حادثے کے دو دن بعد ہی یعنی گیارہ اپریل کو عید میلاد کے اجتماع کے موقع پر کراچی کے نشتر پارک میں ایک خود کش بمبار نے اپنے سمیت تقریباً ستاون افراد کی جان لے لی۔ ہلاک ہونے والوں میں سنی تحریک کی تمام لیڈرشپ بھی تھی۔ سندھ پولیس کے سربراہ جہانگیر مرزا کا کہنا ہے کہ نشتر پارک دھماکے کا سب سے پہلا شبہ جہادی تنظیموں کی طرف ہی جاتا ہے لیکن ابھی تک ان تنظیموں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ تین دن میں صرف کراچی ہی میں تقریباً سو کے قریب افراد کی ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں حالات کتنے نازک ہیں اور بم باندھ کر خود کو اور دوسروں کو اڑانا صرف فلسطین اور عراق میں ہی نہیں اب پاکستان میں بھی ایک معمول بن گیا ہے۔ پاکستان جہادی ہے وزیرستان، ڈیرہ بگٹی اور کراچی ہر جگہ جہاد کا عکس ہے۔ کبھی یہ جہاد مبینہ شدت پسند کر رہے ہیں تو کبھی حکومت۔ دونوں ہی یہ، بقول ان کے، پاکستان بچانے کے لیئے کر رہے ہیں۔ حال ہی میں جاری کیے گئے اسامہ بن لادن کے نائب اور القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کے ویڈیو پیغام کو ہی لیجیئے۔
اس کا بظاہر مقصد پاکستان فوج کو مبینہ شدت پسندوں کے خلاف ’جہاد‘ کو روک کے صدر مشرف کے خلاف ’جہاد‘ کے لیئے اکسانا ہے۔ الظواہری کے پیغام کا کچھ ترجمہ حسب ذیل ہے۔ ’دوسری اہم بات جو میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں وہ مایوس کن صورتِ حال ہے جس کی طرف غدار مشرف پاکستان کو دھکیل رہا ہے۔۔۔ ’مشرف یہ کہہ کر کہ پاکستان کو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے خطرہ ہے پاکستان فوج کی مقابلہ کرنے کی آئیڈیولوجی یہ نظریہ حیات بدلنا چاہتا ہے۔۔۔ ’کس طرح پاکستانی آفیسر یا فوجی کو قائل کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کے عورتوں اور بچوں کو ہلاک کر کے پاکستان کی حرمت کا دفاع کر رہا ہے۔۔۔ ’پاکستان کے ہر فوجی اور آفیسر کو یہ پتہ ہونا چاہیئے کہ مشرف امریکیوں سے رشوت لے کر انہیں خانہ جنگی کی بھٹی میں جھونک رہا ہے، اور جب تک اس کی جیبیں رشوت سے بھرتی رہتی ہیں اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس (لڑائی) میں دس ہزار پاکستانی فوجی ہلاک ہوتے ہیں یا بیس ہزار۔۔۔‘۔ چھوٹی چھوٹی داڑھیوں والے نوجوان پاکستانیوں سے بات کر کے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے اکثر کے ذہن اسی طرح کے پیغامات سے بھرے ہیں۔ پشاور میں ہی ایک فوٹوگرافر سے ملاقات ہوئی جس نے بتایا کہ کس طرح افغان جہاد کے دوران نوجوان، جن میں سے زیادہ تر تعداد امیر عرب نوجوانوں کی تھی، راتوں کو جاگتے تھے اور رو رو کر جہاد میں موت کی دعا مانگتے تھے۔ یہ فوٹو گرافر ایک لمبا عرصہ ایک عرب جریدے کے لیئے کام کے سلسلے میں ان کے ساتھ رہا تھا۔ آج کے پاکستان میں میں نے لوگوں کو جہاد میں موت کے لیئے دعائیں مانگتے تو نہیں دیکھا پر اسی مد میں دو انتہائیں ضرور دیکھی ہیں۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو سب خود کش بم دھماکوں اور فوجی کارروائیوں سے لاتعلق پیسہ بنانے کی فکر میں ہے اور دوسری طرف وہ ہیں جو مغرب اور اس سے وابستہ کسی بھی چیز یا شخص کو بزورِ طاقت تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری قسم میں سب سے زیادہ دیہاتوں اور چھوٹے شہروں کے کم پڑھے لکھے نوجوان ہیں جن کو یقین ہے کہ مغرب کو یا مغربیت کو تباہ کرنے سے ہی ایسا ممکن ہے۔ لاہور کے گردونواح ہی میں کئی نوجوان لڑکوں سے گفتگو سے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ان کے خیال میں دنیا میں جنگ اب صرف کفر اور اسلام کی ہے اور اسلام کی فتح کے لیئے ہر جائز اور ناجائز طریقہ اپنا اسلامی ہے۔ چاہے اس میں بچے ہلاک ہوں یا عورتیں۔ جہاد میں سب جائز ہے۔ حال ہی میں افغانستان کے صوبے قندھار میں تین پاکستانیوں کو گرفتار کیا گیا۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ یہ تینوں پاکستانی خودکش حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے بم تکنیکی وجوہات کی بنا پر نہیں پھٹے۔ گرفتار ہونے والے تینوں افراد کا تعلق کراچی سے بتایا جاتا ہے۔ پاکستان میں جہاد خیبر سے کراچی کی طرف آیا ہے یا کراچی سے خیبر کی طرف لیکن ایک بات واضح ہے کہ یہ عام آدمی کی سائیکی میں سماتا جا رہا ہے۔ چاہے وہ اس کا اظہار اس سے لاتعلقی ظاہر کر کے کرے یا اس میں لڑنے مرنے کے لیئے تیار ہو کے۔ |
اسی بارے میں کراچی حملہ: تفتیش جاری مگر نتائج؟21 April, 2006 | پاکستان شیعہ عالم دین اور ڈرائیور ہلاک 18 April, 2006 | پاکستان تحقیقات کی نگرانی خود کروں گا:صدر17 April, 2006 | پاکستان نشتر پارک:’حملہ خود کش تھا‘16 April, 2006 | پاکستان میلاد النبی دھماکے، ملک گیر ہڑتال14 April, 2006 | پاکستان کراچی دھماکہ، آج لاہور بند رہے گا13 April, 2006 | پاکستان محفلِ میلاد میں بھگدڑ، 29 ہلاک09 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||