BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 April, 2006, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نشتر پارک:’حملہ خود کش تھا‘

نشتر پارک دھماکہ
جہانگیر مرزا کے مطابق کارروائی کا ہدف کوئی مخصوص فرد یا گروہ نہیں تھا
سندھ پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ نشتر پارک دھماکہ ایک خود کش نے تقریباً پانچ کلو بارود سے کیا۔

سندھ پولیس کے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ ابھی تک نہ تو نشتر پارک دھماکے کے مشتبہ خودکش بمبار کی شناخت ہوسکی ہے نہ ہی تفتیش کار کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے قابل ہوسکے ہیں۔

تاہم پولیس کے انسپکٹر جنرل جہانگیر مرزا کے مطابق حملہ آور کا نشانہ کوئی مخصوص گروہ یا فرد نہیں تھا۔

گزشتہ منگل کو نشتر پارک کے دھماکے میں سنی تحریک کے چار مرکزی رہنماؤں سمیت سینتالیس لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

سنی تحریک کا دعوٰی ہے کہ یہ نشانہ بنا کر کیا جانے والا حملہ تھا جس کا ہدف تحریک کے سربراہ عباس قادری سمیت مرکزی قائدین تھے۔

تاہم اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں سندھ پولیس کے سربراہ جہانگیر مرزا نے کہا کہ اب تک کی تفتیش سے صرف یہ بات یقین کو پہنچی ہے کہ صرف ایک خودکش حملہ آور نے تقریباً پانچ کلو کے بم کے ساتھ یہ حملہ کیا۔

نشتر پارک میں دھماکے کے بعد میلاد میں شریک لوگوں نے زخمیوں کو مدد دینی شروع کر دی

لیکن جہانگیر مرزا کے مطابق کارروائی کا ہدف کوئی مخصوص فرد یا گروہ نہیں تھا بلکہ بلاامتیاز معصوم لوگوں کے خلاف دہشت گردی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں کے مطابق حملہ آور عام مجمع میں اسٹیج سے ستائیس فٹ دور تھا اور خودکش بم اس کے سینے پر بندھا ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کھڑے قد سے جب زمین سے چار فٹ کی بلندی پر دھماکہ ہوا تو بم کے ساتھ بال بیئرنگ کی گولیاں ہرسمت میں گئیں اور لوگوں کو ہلاک اور زخمی کیا۔

ایک سوال کے جواب میں سندھ پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکام سے تین دن میں حتمی رپورٹ نہیں مانگی۔

اب تک کی تفتیش کی پیش رفت بتاتے ہوئے جہانگیر مرزا نے کہا ابھی تک مشتبہ خودکش حملہ آور کے بے جسم کے سر کی شناخت نہیں ہوسکی ہے نہ ہی کسی فرد کو باضابطہ گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تفتیش کار ابھی تک تحقیقات کے کسی ایک رخ کا تعین نہیں کرسکے ہیں اور ایک سے زائد ممکنات پر کام ہو رہا ہے۔

نشترپارک دھماکے میں جہادی تنظیموں کے ممکنہ کردار پر ان کا کہنا تھا کہ سب کا پہلا شبہہ انہی تنظیموں کی طرف جاتا ہے لیکن ابھی تک ان تنظیموں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

جہانگیر مرزا نے اس بات کی تردید کی کہ امریکی ایف بی آئی یا کوئی بھی اور غیرملکی تفتیشی ادارہ اس معاملے میں شامل کیا گیا ہے۔

نشتر پارک بم دھماکے کی تفتیش بھی انہی پولیس افسران کے حوالے کی گئی ہے جو تقریباً سات ہفتے پہلے کراچی کے امریکی قونصل خانے پر ہونے والے خود کش بم حملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

دھماکے کے بعد موبائل کیمرے سے بنائی گئی ایک تصویر

تاہم ابھی تک اس حملے کے ذمہ داروں کا نہ تو سراغ لگایا جاسکا ہے نہ ہی خودکش حملہ آور کی شناخت ہو سکی ہے۔

دوسری جانب ملک کے فوجی صدر جنرل مشرف کراچی پہنچ گئے ہیں جہاں وہ مختلف مکاتیب فکر کےعلماء سے ملنے کے علاوہ امن و امان کی صورتحال پر ایک اجلاس میں شریک ہوں گے اور نشتر پارک کے واقعے کی اب تک تفتیش کا بھی جائزہ لیں گے۔

آنکھوں دیکھا حال
کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار نے کیا دیکھا
لاہور دھماکے
لاہور میں جمعرات کو دھماکوں کی تصاویر
خریدار کہاں گئے؟
کراچی: دکاندار گاہکوں کی راہ دیکھ رہے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد