کراچی: دکانیں کھلی ہیں، خریدار غائب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اس مرتبہ عیدالفطر کی خریداری کے رنگ پھیکے ہیں۔ بازاروں میں دکانیں آدھی رات تک کھلی ہیں مگر خریداری کرنے کے لیے لوگ نہیں ہیں۔ خریداروں کو لبھانے کے لیے کپڑوں اور جوتوں پر پچیس سے پچاس فیصد سیل بھی لگائی گئی ہے مگر یہ ترغیبات بھی خریداروں کو متوجہ نہیں کر سکی ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے پاکستانی قوم زلزلے میں مرنے والوں کے سوگ میں ہے۔ کاسمیٹکس بیچنے والے ایک دکاندار الطاف حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے پاس اکثر کراچی سے باہر کے لوگ آتے تھے۔ دسویں روزے کے بعد تو ہمیں فرصت نہیں ہوتی تھی مگر اس سال پچاس فیصد کاروبار متاثر ہوا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ زلزلے کی وجہ سے لوگوں نے خریداری نہیں کی اور مارکیٹ ٹھپ ہے۔ کپڑوں کی ایک دکان کے مالک شیر عالم نے بتایا کہ ’مارکیٹ بالکل ڈاؤن ہے۔ ماہ رمضان کے دنوں ایک دکاندار روزانہ دس سے پندرہ ہزار تک آرام سے کماتا ہے مگر آج کل پچاس فیصد بھی کاروبار نہیں ہو رہا ہے‘۔ ایک اور دکاندار راشد انصاری کا کہنا تھا کہ جو بھی خریداری ہو رہی ہے۔ وہ صرف بچوں کے لیے کی جا رہی ہے۔ بڑوں کی خریداری تو پانچ فیصد بھی نہیں ہے۔ ان کے مطابق دکاندار اس خریداری سے مطمئن ہیں کیونکہ زلزلہ زدگان کو رقم کی زیادہ ضرورت ہے اور لوگ ان کو امداد دیکر درست فیصلہ کر رہے ہیں۔ خواتین کے کپڑوں کا کروبار کرنے والے سلمان احمد کا کہنا تھا کہ ’ان دنوں بازار میں اتنا رش ہوتا تھا کہ ہم کسی سے بات بھی نہیں کر سکتے تھے مگرجہاں ہم بیس ہزار کماتے تھے وہاں آج کل پانچ ہزار کا بزنس ہورہا ہے‘۔ زیب النسا اسٹریٹ پر مبین گارمنٹ کے مالک نسیم مبین نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال تیس فیصد بزنس کم ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عید خوشی ہوتی ہے اگر غم آجائے تو خوشی کہاں رہتی ہے۔لوگ اپنی جگہ پر بجا ہیں وہ عید خریداری کے بجائے زلزلے زدگان کو پیسے دے رہے ہیں‘۔ جوتوں کی ایک دکان کے مینجر نے بتایا کہ ان کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔اس عید پر لوگ روایتی جوش خروش سے خریداری نہیں کر رہے ہیں۔ دکان رات کو دیر تک کھلی رہتی ہے مگر خریداروں کی کمی ہے۔ ایک دکاندار بلال احمد کا کہنا تھا کہ ان کے پاس وہ روایتی رش تو نہیں ہے مگر بزنس کم ضرور ہوا ہے۔ جس کی وجہ زلزلہ ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ زلزلہ لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ گیا ہے‘۔ خواتین کی عید چوڑیوں کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے مگر کراچی کے مین صدر بازار میں چوڑیاں بیچنے والے دکانداروں کے پاس بھی رش نہیں۔ ایک دکاندار شکیل کا کہنا تھا کہ رمضان میں ان دنوں اس کے ہاتھ فارغ ہی نہیں ہوتے تھے مگر آج کل خریدار ہی نہیں ہیں۔ صرف چھوٹی بچیوں کے لیے ہی خریداری کی جا رہی ہے اور بڑے تو خریداری بھول گئے ہیں۔ لوگوں نے اس سال ایک دوسرے کو عید کے تہنیتی کارڈ بھی نہیں بھیجے ۔ عید کارڈ کا کاروبار کرنے والے محمد جاوید نے بتایا کہ انہوں نے صرف پچیس فیصد کارڈ فروخت کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ گزشتہ رمضان میں پینتیس ہزار کمائے تھے مگر اس سال دس ہزار بھی نہیں کما سکا‘۔ انہوں نے بتایا کہ لوگوں نے زلزلے کو دل پر لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ شمالی علاقوں اور کشمیر میں زلزلے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ملک کی تمام بڑی جماعتوں اور صوبائی حکومت نے عوام سے عید سادگی سے منانے کی اپیل کی ہے۔ | اسی بارے میں جب کوئی احساس ہی نہ رہے 28 October, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان کے لیے ’سمارٹ ہٹ‘28 October, 2005 | پاکستان مصنوعی اعضاء کم اور مہنگے 28 October, 2005 | پاکستان مزید 34 زخمیوں کی کراچی منتقلی 26 October, 2005 | پاکستان زخمیوں کو کراچی لانے کا منصوبہ25 October, 2005 | پاکستان زخمیوں کا جہاز کراچی پہنچ گیا20 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||