BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 April, 2006, 16:30 GMT 21:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سڑکیں ویران، ہر کوئی محتاط

وزیراعظم شوکت عزیز
کراچی کی الیکٹرانک مارکیٹ میں صبح سے دکانیں تو بند تھیں مگر چوکیداروں نے مین گیٹ کے تالے کھول دیے تھے
کراچی کی مصروف شاہراوں پر جہاں معمول کے دنوں میں گاڑی گزرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی جمعرات کو نوجوان کرکٹ کھیل رہے تھے اور تمام لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے کچھ اور بھی ہونے والا ہے۔


کراچی کی الیکٹرانک مارکیٹ میں صبح سے دکانیں تو بند تھیں مگر چوکیداروں نے مین گیٹ کے تالے اس امید پر کھول دیے تھے کہ شاید یہ دکانیں کھل جائیں۔

مارکیٹ کے باہر پندرہ سے چوبیس سال کی عمر کے نوجوان موجود تھے جو موبائل اور الیکٹرانک کی دیگر مصنوعات کی دکانوں پر سیلزمین کا کام کرتے ہیں۔

جب ایک نوجوان سے پوچھا گیا کہ کیا دکان کھلے گی۔ تو انہوں نے بے یقینی کا اظہار کیا اور سامنے کی سڑک پر جلے ہوئے ٹائر کی جانب اشارہ کیا جس کا ربر تو جل چکا تھا لیکن نشان اور کچھ حصے باقی تھے۔

تھوڑی ہی دیر میں کالے رنگ کی ہنڈا کار میں سوار ایک شخص آیا اور ایک دکان کے باہر منتظر لوگوں سے کہا آج دکان نہیں کھولیں گے۔ کار سوار یہ کہہ کراپنی منزل کو روانہ ہوگیا اور دکان کے باہر بیٹھے ہوئے لوگ وہیں بیٹھے تبصرے کرتے رہے۔

پاکستان کا تجارتی دارالحکومت کہلانے والے شہر کی سڑکیں گزشتہ دو دن سے ویران ہیں اور خوف و ہراس کی فضا چھائی ہوئی ہے ہر آدمی راستے پر محتاط انداز سے چل رہا ہے کہ اچانک کچھ ہو نہ جائے۔

شہر کے مرکزی اور مصروف ترین ایمپریس مارکیٹ کے باہر مے فیئر سینٹر کے قریب بھی ایک کار کو جلایا گیا تھا مگر ایمپریس مارکیٹ کے اندر موجود دکانیں کھلی ہوئیں تھیں، جن میں اکثر کے پاس تازہ سبزی اور پھل موجود نہیں تھے۔

’آج دکان نہیں کھولیں گے‘

جب میں نے ایک دکاندار سے پوچھا تازہ سبزی نہیں ہے؟ اس کا کہنا تھا باہر سے مال نہیں آرہا ہے۔

ایمپریس مارکیٹ کے اندر پرچون کی دکانیں بھی کھلی ہوئی تھیں لیکن یہاں معمول سے کم رش تھا۔ ایک دکاندار سے جب پوچھا کہ آج آپ دکان کھلی رکھیں گے؟ تو اس نے کہا اب تک تو کھلی ہے بعد کا کوئی پتہ نہیں ہے۔

نشتر پارک کے واقعے کے بعد مشتعل ہجوم کے ہاتھوں پٹرول پمپوں کو نذر آتش کرنے کے بعد شہر کے پمپ بند ہیں اور ان کے باہر لوگوں کی قطاریں لگی ہوئی ہے۔

یہ قطاریں ایسی ہیں جیسی پانی کے نلکے کے سامنے پانی کے انتظار میں لگائی جاتی ہیں۔ پٹرول پمپ والے لوگوں کو پیٹرول نہیں ہے کہہ کر واپس جانے کو کہتے رہے۔ اس صورتحال میں جن کی گاڑیوں میں تھوڑا بہت پیٹرول تھا وہ بچت کے تحت گاڑیاں باہر نہیں نکال رہے تھے۔

مصروف شاہراوں پر جہاں معمول کے دنوں میں گاڑی گزرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی جمعرات کو نوجوان کرکٹ کھیل رہے تھے۔

اسی بارے میں
یہ کِس کا سر ہے؟
12 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد