’پاک سر زمین شاد باد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کام کے سلسلے میں حال ہی میں پاکستان جانے کا اتفاق ہوا۔ ایسا تو نہیں کہ وہاں سب کچھ بدل گیا یا پہلی دنیا سے تیسری دنیا جا کر سب کچھ غلط لگا اور ناک پر رومال رکھا لیا لیکن پھر بھی بہت سی چیزوں نے اپنی طرف متوجہ کیا۔ ان چیزوں کو تین مضامین میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ پیش ہے سلسلے کی پہلی کڑی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاز سے جو چیز پہلی دیکھنے کو ملتی ہے وہ ہے کنکریٹ۔ دور دور تک کنکریٹ۔ کنکریٹ ہی کنکریٹ۔ اگر یہ کراچی ہے تو یہ لاہور بھی ہے اور اب تقریباً ایسا ہی اسلام آباد اور پشاور بھی۔ وہاں کے باسی اسے ترقی کہتے ہیں اور شاید یہ ترقی کا ایک پیمانہ بھی ہے۔ نئی نئی گاڑیاں اور پکے گھر۔ اس کے آگے کچھ نہیں۔ کنکریٹ کے گھر بنانے کے لیئے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے زمین اور زمین پاکستان کی آج کی سب سے بڑی کہانی ہے۔ ہر شخص حقیقی معنوں میں زمین سے جڑا ہوا ہے۔ اور زمین سے اس عشق نے زمین ہی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جو زمین ہزاروں کی تھی وہ اب لاکھوں کی ہے اور جو لاکھوں کی تھی وہ کروڑوں کی۔ جس کے پاس بھی کچھ زمین تھی وہ کروڑ پتی ہے اور جس نے کبھی سوچا تھا کہ ذرا حالات بہتر ہو جائیں تو گھر بنائیں گے وہ اب کبھی نہیں بنا سکتا۔ میں ادھر ’شاید‘ نہیں لگا رہا کیوں کہ میں ان اشخاص کو کوئی جھوٹی تسلی نہیں دینا چاہتا جنہوں نے پہلے گھر نہیں بنائے تھے یا زمین نہیں لی تھی۔ زمین صرف محاورتً نہیں حقیقت میں بھی اب عام آدمی کے لیئے تنگ ہو گئی ہے۔ بلکہ یوں کہیئے کہ زمین آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ لاہور کے گلبرگ کے مین بلیوارڈ کو ہی لے لیں یہ پہلے بھی کبھی عام آدمی کی رہائش گاہ نہیں رہا لیکن یہاں گھر ضرور تھے اب وہاں صرف بڑے بڑے پلازہ ہی ملیں گے۔ وہاں ایک رہائشی پلازہ بھی بن رہا ہے جہاں ایک گاہک اور سیلز مین کے درمیان بات چیت کچھ اس طرح سے ہو رہی تھی۔
’جی ہمارے پاس تقریباً سب ہی فلیٹ بک ہو چکے ہیں اور درخواستیں بہت زیادہ ہیں۔ بہت اچھے فلیٹ جو ہیں اس لیئے لوگ دھڑا دھڑ آ رہے ہیں۔ آپ بکنگ کے لیئے پچاس ہزار روپے دے دیں اور اطمینان رکھیں یہ بالکل سیف انویسٹمنٹ ہو گی‘۔ (پیچھے دیوار پر لگی ہوئی صدر جنرل پرویز مشرف کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)۔ آپ بالکل فکر نہ کریں اس میں جنرل صاحب کا بھی حصہ ہے اور اسے جلدی مکمل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی‘۔ جب ہر کوئی زمین اور اس کی قیمت کی بات کر رہا تھا تو تجسس ہوا کہ کسی مناسب جگہ کی زمین کے متعلق پوچھا جائے۔ جواب یہ تھا: ’اگر آپ کو زمین چاہیئے تو اس کے اتنے پیسے ہیں اور اگر فائل چاہیئے تو اتنے۔ اب زمین اور فائل کا مسئلہ سمجھنے کی کوشش کی۔ فائل وہ چیز ہے جس کی ابھی زمین یا تو ہے ہی نہیں یا تعین نہیں ہوئی اور یا پھر ابھی پوری طرح ڈویلپ نہیں ہوئی۔ پاکستان کے بہت بڑے بڑے رہائشی منصوبے صرف فائلوں پر ہی چل رہے ہیں۔ کلیہ بہت آسان ہے۔ ایک رہائشی سکیم بنائیے دو تین فوج کے سابق جنرل یا اہم عہدوں پر فائز آدمیوں کا نام سکیم کے بروشرز پر چھپوائیے یا پبلسٹی میں استعمال کیجیئے اور دیکھیئے کہ پھر کس طرح آپ ملک کے امیر ترین آدمیوں میں شمار ہونے لگتے ہیں۔ جو شخص پہلے کچھ نہیں کر رہا تھا وہ اب پراپرٹی ڈیلر ہے اور ہر تیسرا شخص یا تو فائل بیچ رہا ہے یا خرید رہا ہے اور یا پھر خریدی ہوئی فائل لے کر اپنے نقصان کا رونا رو رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ حکومت کی ناک اور صدر مشرف کی تصویر کے نیچے ہو رہا ہے۔ ’پاک سر زمین شاد باد‘۔ |
اسی بارے میں آپ کی عورت، آپ کی مرضی08 August, 2005 | قلم اور کالم سنامی کی تباہی02 January, 2005 | قلم اور کالم یہ بچہ کس کا بچہ ہے20 November, 2004 | قلم اور کالم ’ستمبر جا‘ اکیلا چھوڑ دے مجھ کو11 September, 2004 | قلم اور کالم خدا کے نام پر ’مجھے‘ نہ مارو02 September, 2004 | قلم اور کالم کہانی ساری فلمی ہے24 August, 2004 | قلم اور کالم خبریں جھوٹی افواہیں سچی03 July, 2004 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||