BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 August, 2005, 18:01 GMT 23:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آپ کی عورت، آپ کی مرضی

حجاب
آزاد معاشرے میں یہ بتایا نہیں جاتا کہ آپ کو کیا پہننا چاہیئے
کہتے ہیں کہ ایک مغربی صحافی جو کہ افغان جنگ کے دوران افغانستان میں ایک لمبا عرصہ گزار کر گیا تھا کئی سال کی جنگ کے خاتمے کے بعد افغانستان واپس آیا۔ اس نئے افغان دورے نے اسے چکرا کے رکھ دیا۔

ہوا یوں کہ افغانوں کے دیس میں وہ اپنے پہلے ہی دن یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جو خواتین جنگ کے دوران اور اس سے قبل اپنے مردوں سے دس قدم پیچھے چلتی تھیں اب دس قدم آگے چل رہی تھیں۔ ’کیا یہ عورت کو برابر حقوق دیے جانے اور اس کی عزت بڑھانے کی وجہ سے ہے‘، صحافی نے اپنے مترجم سے پوچھا۔ ’نہیں بارودی سرنگوں کی وجہ سے‘، مترجم نے نہایت اطمینان سے جواب دیا۔

گزشتہ ماہ عورتوں کےعالمی اعلامیے کے ساتھ بھارتی خواتین کا وفد پاکستان آیا۔ پاکستان کی خواتین اس اعلامیہ کو لے کر اب آذر بائیجان جائینگی۔ جہاں سے یہ مختلف ممالک سے ہوتا ہوا سترہ اکتوبر کو افریقہ کے چھوٹے سے ملک
برکیانو فاسو میں اختمام پذیر ہوگا۔

بھارت سے اس اعلامیے کو پاکستان لانے والی خواتین کا کہنا تھا کہ عورتوں کا عالمی اعلامیہ تمام مرد و عورت، سماجی تحریکوں اور سول سوسائیٹیوں اور ان تمام لوگوں کے درمیان اتحاد کا مظہر ہے جو اس دنیا میں تبدیلی لانے کے خواہشمند ہیں۔

ویسے بھی دنیا میں کافی تبدیلی آ رہی ہے۔ افغان عورت جو اب پیچھے کی بجائے آگے چل رہی ہے۔ پاکستان میں بھی عورتیں اپنی عزت بچانے کے لیے گاؤں کی پنچایت کی اور شہر میں دوڑنے کے لیے شہر کے ناظمِ اعلیٰ تک کی اجازت کی منتظر ہیں۔ پہلے عورت کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے اور پھر اسے اپنا منہ بند رکھنے کو کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے ’ملک بدنام ہوتا ہے‘۔ اگر اس کے ساتھ زیادتی ہو تو کہا جاتا ہے کہ اس کی ’عزت لٹ‘ گئی اور اگر وہ اس کے متعلق بات کرے تو وہ پورے ملک کی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔

یہ تو کم پڑھے لکھے تیسری دنیا کے ممالک کا حال ہے لیکن پہلی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ عورت کو کتنی آزادی ہے اور کیا کوئی اس کی آزادی یا اس کے حقوق کے بارے میں اس سے پوچھتا بھی ہے یا نہیں۔

حجاب پہنے ہوئے خواتین
خواتین کے حجاب سے متعلق نت نئے سوالات اٹھتے رہتے ہیں

گزشتہ ہفتے برطانیہ میں ایک مسلم رہنما ڈاکٹر ذکی بداوی نے یہ کہہ کر مسلم دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی کہ سات جولائی کے لندن بم دھماکوں کے بعد اگر مسلم خواتین عام مقامات پر حجاب کے ساتھ خود کو خطرے میں محسوس کریں تو وہ حجاب ترک کرسکتی ہیں۔

یہاں تک تو ٹھیک تھا۔ مسلم رہنما نے بیان دے دیا اور میڈیا نے اسے اٹھا لیا۔ لیکن کیا مسلم رہنما نے یہ بیان دینے سے پہلے مسلم خواتین سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتی ہیں۔ انہوں نے شاید اس کی ضرورت محسوس نہیں کی کیونکہ اس کے لیے انہوں نے آیات کا حوالہ دینا کافی سمجھا۔ ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں ہم جیسے کئی صحافی نوجوان مسلمانوں کو بلا کر ان سے اس کے متعلق سوالات کرتے ہیں اور جب وہ آگے سے کہتے ہیں کہ عورت کو حق ہے کہ وہ حجاب پہنے یا نہ پہنے تو جواب ملتا ہے کہ ’یہ تو آپ کے مزہبی رہنما کہہ رہے ہیں‘۔

سوال یہ ہے کہ اس وقت حقوقِ انسانی یا حقوقِ نسواں کے نمائندوں کی آواز کیوں نہیں آ رہی کہ یہ کیا ہے۔ اس وقت مسئلہ حجاب کا نہیں ہے۔ مسئلہ عورت کے ڈر اور اسے ہراساں کرنے کا ہے۔ کیوں اٹھ کر کوئی یہ نہیں کہتا کہ عورت کو کوئی ہراساں ہی کیوں کرے۔ اس کا اس سارے مسئلے سے کیا تعلق ہے۔ ایسی آوازیں کہاں چلے گئی ہیں۔ کیا لندن کے بموں کی آوازوں نے انہیں بالکل ہی دبا دیا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ پنجاب میں جب فرقہ وارانہ قتل و غارت بڑھ گئی تھی تو ضلعی انتظامیہ نے یہ حکم جاری کیا تھا کہ اب موٹر سائکلوں پر مرد حضرات بھی عورتوں کی طرح دونوں ٹانگیں ایک طرف کر کے بیٹھا کریں۔ شاید فسادات ختم ہو گئے تھے اور اس کے بعد سب ہی ہنسی خوشی رہنے لگے۔

عورت کو دس قدم آگے چلنے کو کہیں یا دس قدم پیچھے چلنے کو بس کہیں آپ ہی۔ کیونکہ مرضی بس آپ ہی کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد