تحقیقات کی نگرانی خود کروں گا:صدر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نشتر پارک بم دھماکے کی تحقیقات کے سلسلے میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے صوبائی حکومت پر عدم اعتماد کے اظہار کے بعد صدر پرویز مشرف نے بذاتِ خود تحقیقات کی نگرانی کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ کراچی کے نشتر پارک میں عید میلادالنبی کے اجتماع میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اڑتالیس ہوگئی ہے۔ اس دھماکے میں اکیاسی افراد زخمی ہوئے تھے۔ صدر پرویز مشرف نے اپنے دو روزہ دورۂ کراچی کے دوران اتوار کی شب مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سے وزیرِاعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی اور انہیں اعتماد میں لیا۔ اس ملاقات میں سنی تحریک کے رہنما شاہد غوری، جے یو پی کے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ زبیر، جماعت اہل سنت کے شاہ تراب الحق، مفتی منیب الرحمان اور دیگر رہنما شریک تھے۔ سنی تحریک کے رہنما شاہد غوری نے بی بی سی کو بتایا کہ’ ہم نے صدر مشرف کو آ گاہ کیا کہ ایم کیو ایم کے کارکنان کی جانب سے سنی تحریک کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ہماری ایف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی‘۔
انہوں نے کہا کہ تحفظ کی فراہمی کے مطالبے پر صدر مشرف نے کہا کہ انصاف کیا جائےگا۔ شاہد غوری کے مطابق ’جب ہم نے صدر سے کہا کہ ہم کب رابطہ کریں تو انہوں نے کہا کہ اب ہم خود رابطہ کریں گے‘۔ جماعت اہل سنت کے رہنما شاہ تراب الحق کا کہنا ہے کہ’ہم پولیس پر انحصار نہیں کر رہے اور ملک کی تمام انٹیلیجنس ایجنسیاں اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ میں خود اس کی نگرانی کروں گا اور دن میں دو مرتبہ رپورٹ لوں گا‘۔ شاہ تراب الحق نے بتایا کہ صدر نے انہیں آگاہ کیا کہ یہ خودکش حملہ تھا اور دھماکے والی جگہ سے جو سر ملا ہے اسے اسلام آباد منگوایا گیا ہے جہاں اس کی پلاسٹک سرجری کی گئی ہے اور مختلف زاویوں سے اس کی تصاویر لی گئی ہیں۔ اب اسے نادرا کے ریکارڈ سے انہیں چیک کیا جائےگا۔ شاہ تراب نے بتایا کہ وہ فی الوقت تو مطمئن ہیں مگر اصل اطمینان تو اس وقت ہوگا جب اصل ملزمان کو گرفتار کیا جائےگا۔
جے یو پی کے رہنما ایم این اے صاحبزادہ زبیر نے بتایا کہ انہوں نے صدر مشرف کو آگاہ کیا کہ سنی تحریک کے لوگوں کی صوبے میں کوئی شنوائی نہیں ہورہیں تھی، جس کے بعد انہوں نے اس مسئلے کو قومی اسمبلی میں اٹھایا اور وزیراعظم شوکت عزیز کو کہا کہ کراچی میں دہشت گردی کی جارہی ہے اور ہمارے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صاحزادہ زبیر کے مطابق اس سوال پر کہ اگر صدر اور وزیرِاعظم پر حملہ ہوتا ہے تو ملزمان گرفتار ہو جاتے ہیں مگر علماء کے قاتل کیوں گرفتار نہیں ہوتے تو صدر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’وہ دو سال میں ہوئے تھے‘۔ صاحبزادہ زبیر کا کہنا تھا کہ نشتر پارک بم دھماکے کو اپنی جان چھڑانے کے لیئے خود کش حملہ قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ اس مقدمے کو سرد خانے کے حوالے کیا جائے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھی علماء اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کو تحقیقات کی نگرانی کی یقین دہانی کروائی تھی مگر وہ اس سے مطمئن نہیں تھے۔ |
اسی بارے میں کراچی ہڑتال: اشیائے خورد کی قلت 14 April, 2006 | پاکستان کراچی مقدمہ: سنی تحریک کی لاتعلقی14 April, 2006 | پاکستان دھماکہ ’حکومتی غفلت نہیں‘13 April, 2006 | پاکستان کراچی دھماکہ، ایک شخص گرفتار13 April, 2006 | پاکستان کراچی:سبھی عدم تحفظ کا شکار 12 April, 2006 | پاکستان دھماکے میں چالیس ہلاک: شیر پاؤ11 April, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||