BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 April, 2006, 07:09 GMT 12:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی ہڑتال: اشیائے خورد کی قلت

کراچی میں تیسرے روز بھی شٹر ڈاؤن اور سڑکوں پر ٹریفک انتہائی کم رہی
کراچی کے نشتر پارک میں بم دھماکے اور مذہبی رہنماؤں کی ہلاکت کے خلاف جمعہ کو اہل سنت جماعتوں کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال ہوئی ہے۔ جس کے بعد کراچی میں اشیائے خورد اور ایندھن کی قلت ہے۔


ہڑتال کی یہ کال نشتر پارک میں منگل کو ہونے والے بم دھماکے میں سینتالیس افراد کی ہلاکت اور اکیاسی کے زخمی ہونے کے بعد دی گئی تھی۔ جمعہ کو کراچی کی شاہراہیں مسلسل تیسرے روز بھی ویران رہیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔


کراچی سے اندرون ملک جانے والی اور شہر کے اندر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی ہڑتال میں شامل رہی اور لوگ ٹیکسی اور رکشہ میں سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔شہر کے مختلف چوراہوں پر پولیس اہلکار تین تین کی ٹولیوں میں موجود رہے۔

نشتر پارک بم دھماکے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ جماعت اہل سنت کے شعبے خدمتِ خلق کے الطاف قادری نے سولجر بازار تھانے میں درج کروایا ہے۔


اے آر ڈی، ایم ایم اے،مہاجر قومی موومنٹ سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے ہڑتال کی حمایت کی تھی۔ ایم ایم اے اور اے آرڈی کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے اعلان کے تحت جمعہ کی نماز کے بعد متحدہ مجلس عمل کی جانب سے گلشن اقبال کی مسجد بیت المکرم کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

کراچی میں ہڑتال کا ایک منظر

مظاہرے سے ایم ایم اے کے صوبائی رہنماؤں علامہ حسن ترابی، معراج الھدیٰ، نصراللہ شجیح اور دیگر نے خطاب کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نشتر پارک دھماکہ ایک سازش تحت کیا گیا، اس سے قبل علامہ حسن ترابی پر حملہ کیا گیا اگر وہ شہید ہوجاتے تو یہاں فرقہ وارانہ فساد کروائے جاتے مگر اس میں وہ ناکام ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان واقعات میں وہ ہی لوگ ملوث ہیں جو کراچی پر قابض ہیں اور بھتہ لیتے ہیں، ان کا مطالبہ تھا کہ گورنر اور وزیر داخلہ کو برطرف کیا جائے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملحقہ شہر راولپنڈی میں کراچی کے بم دھماکے کے خلاف سنی تحریک اور دینی جماعتوں کی اپیل پر جزوی ہڑتال ہوئی اور چند مقامات پر جمعے کی نماز کے بعد مظاہرے کیئے گئے تاہم سڑکوں پر ٹریفک معمول کے مطابق رہی۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے زیادہ تر بڑے بازار جمعہ کو بند ہوتے ہیں جو آج بھی بند رہے اور دینی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں کے مطابق یہ بازار ہڑتال کی وجہ سے بند رہے تاہم چھوٹے بازاروں میں دکانیں کھلی رہیں۔ اسلام آباد میں کراچی کمپنی اور آبپارہ مارکیٹ میں لوگوں نے کراچی بم دھماکے کے خلاف مظاہرے کیئے جبکہ راولپنڈی میں بھی ایک مظاہرہ ہوا۔

ان مظاہروں میں دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے کراچی بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے حکومت کی نا اہلی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ان افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔

ایم ایم اے اور اے آرڈی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیئے گئے

آج اسلام آباد کی مساجد میں نماز جمعہ کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی مگر اسلام آباد اور راولپنڈی سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ میں نشتر پارک میں دھماکے کے حوالے سے جماعت اہلسنت نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اگرچہ کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں مکمل ہڑتال نہیں تھی تاہم نمازِ جمعہ کے بعد کوئٹہ پریس کلب سے جماعت اہلسنت کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی اور میزان چوک پر جلسہ منعقد کیا گیا۔

جماعت کے صوبائی صدر پیر خالد سلطان نے اپنی تقریر میں حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو فورا گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نشتر پارک میں عید میلاد النبی کے موقع پر دھماکہ حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

کوئٹہ میں اس احتجاجی مظاہرے کے دوران سخت حفاطتی انتظامات کیئے گئے تھے اور شہر میں جگہ جگہ بڑ ی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیئےگئے تھے۔

دوسری جانب سندھ اسمبلی نے نشتر پارک کے واقعہ پر بحث کے لئے تحاریک منظور کرلی ہیں۔اپوزیشن کی جانب سے یہ تحاریک نثار کھوڑو، مولانا عمر صادق، شازیہ مری اور دیگر نے پیش کیں تھیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے نشتر پارک کے واقعہ پر احتجاج کیا اور حکومت کو اس کا ذمے دار قرار دیا۔

ایم ایم اے کے پارلیمانی رہنما مولانا عمر صادق نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت کراچی میں امن چاہتی ہے تو ایم کیو ایم سے گورنرشپ اور وزارت داخلہ واپس لے۔ انہوں نے بتایا کہ دو ہزار پانچ میں 676 افراد کو قتل کیا گیا،جن میں سینتیس سیاسی کارکن تھے، جبکہ تیرہ وہ پولیس افسران تھے جو ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں شریک تھے ۔

دریں اثنا سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے کہا ہے کہ ہڑتال کا فائدہ اٹھا کر اگر کسی نے سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سختی سے کارروائی کی جائےگی۔

آنکھوں دیکھا حال
کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار نے کیا دیکھا
خون آلودہ قمیضیہ کِس کا سر ہے؟
جائے وقوعہ سے ملنے والے سر کا مُعمہ
کراچیسڑکوں پر کرکٹ
کراچی میں کچھ اور بھی ہونے کا ڈر
اسی بارے میں
یہ کِس کا سر ہے؟
12 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد