پتہ سیٹلائٹ فون سے چلا: اخبارات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی اخبارات نے بلوچستان میں فوجی آپریشن کی خبر دیتے ہوئے دعویٰ ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی پناہ گاہ کا انکشاف سیٹلائٹ فون کے ذریعے ہوا۔ پاکستانی اخبارات کی تازہ ترین خبروں سے بھی بلوچستان کے فوجی آپریشن کے دوران نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کی تفصیلات آ رہی ہیں۔ انگریزی روزنامہ ڈان نے خبر رسان ادارے اے ایف پی کے حوالے سے خبر شائع کی ہے کہ ’پاکستان سیکیورٹی فورسز نے اکبر بگٹی کو ہلاک کر دیا‘ اخبار نے مزید تفصیل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سکیورٹی فورسز نے سردار نواب اکبر بگٹی کو ایک آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا ہے۔ ملک کے وزیراطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے ’میں تصدیق کرتا ہوں کہ اکبر بگٹی اپریشن کے دوران ہلاک ہوئے ہیں‘۔ کم از کم 25 کمانڈوز اور 30 قبائلی بھی اس آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اکبر بگٹی ڈیرہ بگٹی کے قریب پہاڑوں میں واقع اپنی پناہ گاہ میں ہلاک ہوئے‘۔ روز نامہ جنگ نے یہ خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مری قبائل کے علاقے میں سکیورٹی اداروں کی کارروائی میں اکبر بگٹی ہلاک‘۔
اخبار کا کہنا ہے ’بلوچستان کے علاقے مری اور کوہلو میں سکیورٹی فورسز نے شر پسند عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے جس میں اکبر بگٹی ہلاک ہو گئے ہیں‘۔ اخبار کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوہلو اور مری قبائل کے علاقے میں آپریشن کے دوران اکبر بگٹی ہلاک ہوگئے ۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ’سنیچر کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے کوہلو اور مری کے علاقے میں تاریخ کا سب سے بڑا اور اہم ترین آپریشن ہوا جس کے دوران شر پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے بعد رات کو تصدیق کر دی گئی کہ نواب اکبر بگٹی مارے گئے ہیں‘۔ اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ’ملزمان کے ٹھکانوں کی نشاندہی سیٹلائٹ فون کے ذریعے ہوئی‘۔ انگریزی روز نامہ دی نیوز نے یہ خبر دیتے ہوئے سرخی لگائی ہے: ’جمہری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبر بگٹی سکیورٹی فوسرز کی جانب سے سنیچر کو کوہلو اور مری کے قبائلی علاقوں میں کیئے جانے والے تاریخی آپریشن میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ وفاقی وزیراطلاعات محمد علی درانی نے اس کی تصدیق کی ہے‘۔ اخبار نے وزیر اطلاعات کے الفاظ میں لکھا ہے ’بگٹی قبیلے کے شدت پسندوں نے آپریشن کی مزاحمت کی جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں اکبر بگٹی اور ان کے کئی نمایاں قریبی ساتھی، جو ملک کی کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے ہلاک ہو گئے‘۔ |
اسی بارے میں ’بلوچ بگٹی کا خون معاف نہیں کرینگے‘26 August, 2006 | پاکستان اکبر بگٹی کا سوانحی خاکہ26 August, 2006 | پاکستان کوہلو: بجلی کے کھمبوں پر حملہ26 August, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||