’بلوچ بگٹی کا خون معاف نہیں کرینگے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ قوم پرست رہنما سردار اختر خان مینگل نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر شدید غم اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ نواب اکبر اور ان کے ساتھیوں کا خون معاف نہیں کرینگے اور ان کی ’شہادت‘ سے پاکستان کے ساتھ بلوچوں کے رشتے کو اور کمزور کردیا گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ پھر پنجاب کی بالادستی اور فوج کی انتہا پسندی نے اپنا زور دکھایا ہے اور یہ عمل گزشتہ اٹھاون برسوں سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر دس سال کے بعد اس کی ایک نئی بنیاد رکھی جاتی ہے اور اس مرتبہ نواب اکبر اور ان کے ساتھیوں کو ’شہید‘ کر کے ایک نئی بنیاد رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی غلط سوچ ہے کہ اس سے بلوچ تحریک ختم ہوجائیگی۔ ’اس سے قبل نوروز خان کو شہید کیا گیا تھا، کیا مگر اس سے بلوچ تحریک ِختم ہوئی، بلکہ یہ تحریک اور منظٌم اور موثر ہوئی‘۔ اختر مینگل نے جو نواب اکبر بگٹی کے داماد جاوید مینگل کے بھائی ہیں بتایا کہ وہ قوم پرست جماعتوں سے رابطہ کر رہے ہیں اور جلد ہی نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا۔ | اسی بارے میں بگٹی اور مینگل پر پابندی29 April, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ18 June, 2006 | پاکستان مینگل کی جائیداد ضبطی کا حکم10 June, 2006 | پاکستان بلوچستان: حکومت کی ’نظرِ کرم‘26 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||