BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 July, 2006, 17:15 GMT 22:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: حکومت کی ’نظرِ کرم‘

بلوچستان میں آج کل شورش جاری ہے۔
بلوچستان میں حکومت کو آج کل شورش کا سامنا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے دو برسوں میں بلوچستان کے اکیس ہزار افراد کو ملازمتیں دیں اور بارہ ہزار سے زائد کو مزید نوکریاں دینے کا عمل جاری ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کے روز فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے ہمراہ ایک نیوز بریفنگ میں بتائی۔ یہ بریفنگ بقول وزیر مملکت اس حکومتی فیصلے کا حصہ ہے جس کے تحت مختلف امور پر صحافیوں کو ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ بریفنگ دی جائے گی۔

حکومت اور فوج کے نمائندوں کی اس بریفنگ میں بلوچستان کے بارے میں تفصیلات بتانے سے بظاہر تاثر ملا کہ وہ اس صوبے میں بعض قبائل کی جانب سے بظاہر صوبائی حقوق کے لیئے جاری شدت پسند کارروائیوں کے بارے میں ان کے موقف کو رد کرکے حکومتی موقف کو اجاگر کرنا تھا۔

شوکت سلطان نے بتایا کہ فوج میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد چودہ ہزار ہوچکی ہے جس میں ساڑھے چار سو افسران بھی شامل ہیں۔ جبکہ طارق عظیم نے بتایا کہ فرنٹیئر کور میں گیارہ ہزار چار سو، پولیس میں تین ہزار تین سو پچہتر، لیویز میں اٹھارہ سو اور محمکہ تعلیم میں ساڑھے تین ہزار افراد کو ملازمت ملی ہے۔

انہون نے بتایا کہ بلوچستان میں سنہ ننانوے کی نسبت اب ایک سو چالیس فیصد زیادہ ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے اور رواں مالی سال میں تیس ارب روپے خرچ ہوں گے۔ ان کے مطابق سوئی شہر کے تمام مکینوں کو مفت گیس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جب ان سے پوچھا کہ بعض بلوچ رہنما کہتے ہیں کہ ان کے صوبے کے ستائیس اضلاع میں سے بیشتر ترقیاتی کام صرف تین اضلاع گوادر، کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں ہو رہے ہیں اور اس میں سے بھی اسی فیصد کے قریب فنڈز فوجی چھاؤنیوں اور ان سے متعلق انفراسٹرکچر پر خرچ کیئے جا رہے ہیں تو وزیر سے پہلے فوجی ترجمان بولے اور کہا کہ یہ تاثر غلط ہے۔

انہوں نے بلوچستان کے دیگر اضلاع میں ترقیاتی کاموں کی جو تفصیلات بتائیں ان میں سڑکوں کے علاوہ دیگر کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شامل نہیں۔

 اکبر بگٹی سمیت قانون شکنی کرنے والے ہر کسی کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
فوجی ترجمان

اس بارے میں رُکن قومی اسمبلی عبدالرؤف مینگل کئی بار یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ کیا بکریاں چرانے والے بلوچ اور ان کے اہل خانہ کا پیٹ سڑک بنانے سے بھرے گا؟ وہ اور سینیٹر ثناء اللہ بلوچ پارلیمان میں کہہ چکے ہیں کہ بلوچوں کو فوجی چھاؤنیوں کی نہیں بلکہ سکول، کالج اور ہسپتالوں کی ضرورت ہے۔

بلوچستان میں امن عامہ ہر قیمت پر قائم رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے کہا کہ اکبر بگٹی سمیت قانون شکنی کرنے والے ہر کسی شخص کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

ایک سوال پر شوکت سلطان نے قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف مولانا فضل الرحمٰن کا وہ مطالبہ رد کیا جس میں انہوں نے فوری طور پر اسرائیل کے خلاف لڑنے اور لبنان کے شہریوں کی حفاظت کے لیئے فوج بھجوانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ چاہے گا تو پاکستان اس صورت میں اپنی فوج بھجوا سکتا ہے۔

ایک اخبار میں شائع اس خبر کے بارے میں جس میں حکومت کے خلاف لکھنے والے صحافیوں اور کالم نگاروں کو مبینہ طور پر ’ٹھنڈا’ کرنے کے لیے وزیر اطلاعات اور دیگر حکومتی اہلکاروں کو فرائض سونپنے کی بات کی گئی ہے، طارق عظیم کا کہنا تھا کہ یہ خبر غلط ہے۔ ’حکومت نے اپنے خلاف لکھنے والے صحافیوں کی کوئی فہرست نہیں بنائی’۔

انہوں نے اُس خبر کو بھی غلط قرار دیا جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان سے اکیس مبینہ جرائم پیشہ افراد کو ان کے حوالے کرنے کے لیے ایک فہرست پیش کی ہے۔ طارق عظیم نے کہا کہ امریکہ سے انہیں ایسی کوئی فہرست موصول نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد