’بلوچستان میں بمباری کی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی فضائی فوج کے سربراہ ایئر مارشل تنویر محمود احمد نے اقرار کیا ہے کہ قومی مفاد میں وفاقی حکومت کے حکم پر وزیرستان اور بلوچستان میں ایئر فورس کے طیارے بمباری کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں اور جہاں ضرورت ہوگی وہاں آئندہ بھی استعمال کریں گے۔ پیر کے روز فضائیہ کے صدر دفتر میں نیوز بریفنگ کے دوران فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ حکومت امریکہ سے اٹھارہ نئے اور چھبیس استعمال شدہ ایف سولہ لڑاکا طیارے خرید رہی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ پاکستان کے مفاد میں ہے کیونکہ ملک میں ایسے عناصر موجود ہیں جو پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ بلوچستان میں کارروائی کا ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ سے کیا تعلق ہے تو تنویر محمود احمد نے کہا ’ ہم وفاقی حکومت کا حکم ماننے کے پابند ہیں اور جب بھی حکومت نے کسی علاقے میں فضائیہ کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے عمل کیا ہے اور آئندہ بھی جب حکومت نے کہیں خواہش ظاہر کی ہم عمل کریں گے۔‘
واضح رہے کہ ماضی میں جب بھی نواب اکبر خان بگٹی اور بالاچ خان مری اپنے علاقوں میں جیٹ بمبار طیاروں سے بمباری کا الزام لگاتے تھے تو حکومت کی جانب سے کہا جاتا تھا کہ یہ کارروائی فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹر کرتے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ فضائیہ کے سربراہ نے کھل کر اس بات کا اقرارکیا ہے۔ تاہم فضائی فوج کے سربراہ نے یہ واضح کیا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں کارروائی محدود پیمانے پر انٹیلیجنس کی نشاندہی کردہ مقررہ احداف پر ہوتی ہے اور عام شہریوں کو اس سے نقصان نہیں ہوتا۔ انہوں نے بلوچستان اور وزیرستان میں کسی پائلٹ کی جانب سے بمباری کرنے سے انکار کے بعد انہیں سزا دینے کے سوال پر کہا کہ تاحال کسی افسر نے انکار نہیں کیا۔ ان کے بقول پاک فضائیہ ایک منظم ادارہ ہے اور کوئی حکم عدولی نہیں کرتا۔تاہم لمبی داڑھی والے پائلٹوں کو فارغ کیے جانے پر انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین انچ تک داڑھی رکھی جاسکتی ہے لیکن لمبی داڑھی کی اجازت نہیں ہے اور ایسا ان کی حفاظت لیے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہے اور جو بھی خلاف ورزی کرے گا ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ فضائیہ کے سربراہ تنویر محمود کی تعیناتی کے بعد یہ ان کی پہلی باضابطہ نیوز بریفنگ تھی اور اس کا بظاہر بنیادی مقصد ایف سولہ طیاروں کی خریداری کے بارے میں وضاحت کرنا تھا۔
امریکہ سے خریدے جانے والے لڑاکا طیاروں کے بارے میں مقامی میڈیا میں بہت سارے سوالات اٹھائے جارہے تھے۔ فضائیہ کے سربراہ نے بتایا کہ اٹھارہ نئے اور چھبیس استعمال شدہ ایف سولہ طیارے دو ارب ڈالر میں خریدیں گے اور پرانے طیاروں کو اپ گریڈ کرنے اور دیگر دفاعی آلات پر ایک ارب ڈالر مزید لاگت آئے گی۔ ان کے مطابق زیادہ تر رقم امریکہ سے کم شرح سود پر قرضے کی صورت میں لیں گے اور تین برسوں میں یہ طیارے ملیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی چار ماہ سے بھی کم عرصے کی کمانڈ کے دوران تین لڑاکا طیارے تباہ ہوچکے ہیں اور اس کی وجہ پاک فضائیہ کے طیاروں کا تیس سے چالیس برس پرانا ہونا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک کی فضائی افواج اپنے لڑاکا طیاروں کا فلیٹ پچیس سے تیس برسوں میں اپنے طیارے تبدیل کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان فضائیہ چین کی مدد سے جے ایف 17 لڑاکا طیارے تیار کر رہا ہے اور آئندہ چھ سے آٹھ برسوں میں اپنے تمام پرانے جہاز تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کو تحریری طور پر یہ یقین دہانی کرانے کو تیار ہے کہ وہ چین یا کسی اور ملک کو ایف سولہ طیاروں کی ٹیکنالوجی ان کی مرضی کے بنا فراہم نہیں کرے گا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ مستقبل میں امریکہ کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے اور ایف سولہ طیاروں کی فراہمی روکنے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بات کی وہ گارنٹی تو نہیں دے سکتے البتہ اب جیسے امریکہ پاکستان سے طویل شراکت اور تعلقات کی بات کرتا ہے اس سے انہیں لگتا ہے کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فضائیہ گنتی میں برتر ہے اور اگر پاکستان کے پاس تین سو طیارے ہیں تو بھارت کے پاس نو سو ہیں لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان گنتی شمار کی دوڑ میں پڑنا نہیں چاہتا اور وہ اپنی دفاعی صلاحیت، تربیت اور مہارت پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس اعتبار سے پاکستان کو بھارت پر سبقت حاصل ہے | اسی بارے میں بلوچستان میں ’فتح‘ کا فوجی منصوبہ27 December, 2005 | پاکستان ’بلوچستان میں جنگ کی کیفیت‘22 January, 2006 | پاکستان ’سرداروں کے خلاف کارروائی ہوگی‘06 February, 2006 | پاکستان بلوچستان کے ویرانوں میں13 February, 2006 | پاکستان بلوچوں کوغیر ملکی مدد حاصل ہے‘17 January, 2006 | پاکستان اکبر بگٹی نےہڈی میں کیا دیکھا؟28 February, 2006 | پاکستان بلوچستان میں مظاہرے اور گرفتاریاں03 March, 2006 | پاکستان کوہلو دھماکے: ہیلی کاپٹروں کی پروازیں30 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||