مینگل کی جائیداد ضبطی کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں انسداد دہشتگردی کی ایک عدالت نے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل کو اشتہاری مجرم قرار دیتے ہوئے ان کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ حکومت نے قوم پرست رہنما سردار عطااللہ مینگل پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے خفیہ ادارے کے دو اہلکاروں کو اغوا کرکے حبس بے جا میں رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج حق نواز بلوچ نے اس سے قبل بلوچستان نینشل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کے دو بار گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کئے تھے مگر پولیس انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ عدالت نے آئندہ سماعت چار جولائی تک ملتوی کردی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں سردار عطااللہ مینگل کے ملازمین نے ان کا پیچھا کرنے پر دو افراد کو پکڑ لیا تھا جن کے بارے میں بعد میں بتایا گیا کہ وہ خفیہ ادارے کے اہلکار تھے۔ اس واقعے کے بعد سردار عطااللہ مینگل اور ان کے چار ملازمین پر مقدمہ دائر کیا گیا اور ایک ہفتے تک پولیس نے ان کے گھر کا محاصرہ جاری رکھا جو چار ملازمین کو پولیس کے حوالے کرنے کے بعد بھی جاری رہا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سردار عطااللہ مینگل نے کہا کہ ان فیصلوں سے حکومت ہمیں دباؤ میں لانا چاہتی ہے مگر ہم نہ پہلے بلوچ قوم کے حقوق سے دستبردار ہوئے ہیں نہ اب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں کراچی میں گھومتا رہا ہوں اپنے چار بندے خود پولیس کے حوالے کئے پھر میں مفرور کیسے ہوسکتا ہوں‘۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’میں کوئٹہ میں موجود ہوں اور پارٹی اجلاس میں بھی شریک ہوں پھر اہلکار کیوں نہیں مجھے گرفتار کرتے۔ یا تو حکومت یہ قرار دے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے وہاں پولیس کی دسترس نہیں‘۔ عطاااللہ مینگل کا کہنا تھا کہ ہمیں ان عدالتوں سے پہلے ہی انصاف کی امید نہیں ہے کیونکہ پی سی او کے تحت قسم اٹھانے والے کیا انصاف دیں گے۔ | اسی بارے میں اختر مینگل کے گھر کا پانی بند08 April, 2006 | پاکستان اختر مینگل کاگھر پھر محاصرے میں07 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||