اکبر بگٹی کا سوانحی خاکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ستائیس میں نواب محراب خاں کے ہاں پیدا ہونے والے نواب اکبر بگٹی چھبیس اگست کو مری قبیلہ کے علاقہ کوہلو میں پاکستان فوج کی کارروائی میں مارے گئے۔ وہ سر شہباز بگٹی کے پوتے تھے۔ ڈیرہ بگٹی میں پیدا ہونے والے اکبر بگٹی نے لاہور کے ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی۔ وہ پچاس سال پہلے انیس سو چھیالیس میں اپنے قبیلہ کے انیسویں سردار بنے تھے۔ انیس سو اننچاس میں انہوں نے حکومت کی خصوصی اجازت سے پاکستان سول سروس اکیڈمی سے پی اے ایس (اب سی ایس ایس) کا امتحان دیے بغیر تربیت حاصل کی۔ بعد میں وہ سندھ اور بلوچستان کے شاہی جرگہ کے رکن نامزد ہوئے۔ انیس سو اکیاون میں بلوچستان کے گورنر جنرل کے مشیر مقرر ہوئے۔ وہ انیس سو اٹھاون میں وزیر مملکت کے طور پر وفاقی کابینہ میں شامل رہے۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں وہ چھوٹی قومیتوں کے حقوق کی علمبردار جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں شامل ہوگئے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں وہ کچھ عرصہ جیل میں قید بھی رہے۔ جب عطا اللہ مینگل بلوچستان کے وزیراعلیٰ بنے تو نواب بگٹی کے نیپ کی قیادت سے اختلافات ہوگئے۔ انیس سو تہتر میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ کی حکومت کو برخاست کیا تو اکبر بگٹی کو صوبہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ وہ دس ماہ گورنر رہے لیکن بعد میں ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات کی بنا پر مستعفی ہوگئے۔ انیس سو ستتر میں انہوں نے ائیر مارشل اصغر خان کی سربراہی میں قائم تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کی۔ انیس سو اٹھاسی میں اکبر بگٹی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ فروری انیس سو نواسی سے اگست انیس سو نوے تک وہ بلوچستان کے منتخب وزیراعلیٰ رہے۔ بینظیر بھٹو نے بلوچستان کی اسمبلی کو تحلیل کردیا۔ انیس سو ترانوے کے عام انتخابات میں وہ ڈیرہ بگتی سے اپنی نئی جماعت جمہوری وطن پارٹی کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اردو زبان کا بائیکاٹ کیا۔ تاہم انہوں نے انیس سو ستانوے اور دو ہزار دو کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ نواب اکبر بگتی کی کوہلو کے مری قبیلہ سے رشتہ داری تھی۔ بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کے بیٹے اور سابق رکن صوبائی اسمبلی سردار ہمایوں مری ان کے داماد ہیں۔ گزشتہ تین برسوں سے اکبر بگٹی مری سرداروں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف شدت پسند قوم پرستوں کی قیادت کررہے تھے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بلوچ شدت پسندوں کی کارروائیوں پر انتباہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انیس سو ستر کی دہائی نہیں کہ عسکریت پسند پہاڑوں میں چھپ جائیں اور یہ کہ اس بار انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے کیا چیز آ کر ان کو لگی۔ |
اسی بارے میں نواب اکبر بگٹی فوجی آپریشن میں مارے گئے26 August, 2006 | پاکستان بھاری فوجی نقصان کا دعوٰی06 July, 2006 | پاکستان ’ڈیرہ بگٹی پر فضائی حملے‘05 July, 2006 | پاکستان سرداری نظام ختم کرنےکا اعلان 24 August, 2006 | پاکستان ’500 بگٹیوں نے ہتھیار ڈال دیے‘21 July, 2006 | پاکستان ’بلوچستان میں بمباری کی ہے‘17 July, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||