 | | | نواب اکبر بگٹی کئی مہینوں سے روپوش تھے |
پاکستانی حکومت نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی فوجی آپریشن میں مارے گئے ہیں۔ وزیراطلاعات محمد علی درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ نواب اکبر بگٹی سنیچر کے روز ایک فوجی آپریشن میں مارے گئے۔ اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق اس آپریشن میں 14 سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے ہیں جبکہ نواب اکبر بگٹی کے کچھ ساتھی بھی مارے گئے ہیں۔ کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق مسلح قبائلیوں کے ایک ترجمان نے سنیچر کو ٹیلی فون پر بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے مخالف قبیلے کے کوئی ڈیڑھ سو افراد کے ساتھ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سرحدی علاقوں پر حملے کیے ہیں۔ بعض مقامات پر جھڑپیں ہوئیں جن میں سیکیورٹی فورسز اور ان کے حمایتی قبائلیوں کا جانی نقصان ہوا ہے اور دو ہیلی کاپٹروں کو مار گرایا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ فورسز نے سبی اور سوئی ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر رکھی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ چوبیس اگست کو جرگہ کے بعد سے حملے شروع کیے گئے ہیں جو آج بھی جاری رہے۔ سنیچر کی صبح چار ہیلی کاپٹروں نے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے سرحدی علاقوں میں بمباری کی ہے۔ شام کو یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بعد میں جیٹ طیاروں سے بھی حملے کیے گئے۔ |