گمشدہ بلوچوں کا معمہ حل نہ ہو سکا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان میں ان گمشدہ یا غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر زیر حراست افراد کے رشتہ دار آئے روز مظاہرے کررہے ہیں جو نہ تو پولیس کے پاس ہیں اور نہ ہی انھیں عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کوئی ساڑھے چار سو کے لگ بھگ افراد اس وقت غائب ہیں۔ اکثر مظاہروں اور اس حوالے سے منعقدہ اخباری کانفرنسوں میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں پر الزام عائد کیا جاتا ہے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اور صوبے کے دیگر اضلاع میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے علاوہ خواتین اور خصوصا گمشدہ یا زیر حراست افراد کی مائیں اور بہنیں ہاتھوں میں قطبے اٹھائے آنکھوں میں آنسو لیے مظاہروں میں شریک نظر آتی ہیں۔ منیر مینگل بلوچ وائس کے نام سے بلوچی زبان کا چینل شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی والدہ اور بہن نے الزام عائد کیا ہے کہ منیر مینگل کو خفیہ ایجنسی کے اہلکار اس وقت اٹھا کر لے گئے جب وہ دبئی سے کراچی ائیر پورٹ پر اترے تھے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک مظاہرے میں منیر مینگل کی والدہ زلیخا خاتون کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بیٹے کی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھی۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو اچھی تعلیم دی ہے اور وہ کسی سیاسی تنظیم سے وابستہ نہیں تھا وہ صرف بلوچی زبان میں چینل شروع کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ کوہلو کے ضلعی ناظم انجینیئر علی گل مری کے بھائی مصری خان ماہر تعلیم ہیں۔ مصری خان قلات کالج کے پرنسپل ہیں اور کوہلو میں تعلیم کے فروغ کے لیے انھوں کئی اقدامات کیے ہیں۔ دو گزشتہ ماہ سے غائب ہیں۔ انھیں نہ تو پولیس کے حوالے کیا گیا ہے اور نہ ہی انھیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ ضلعی ناظم انجینیئر علی گل مری کے مطابق ان کے بھائی دو اور تین فروری کی درمیانی شب ڈیرہ غازی خان سے غائب ہویِ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ کوہلو کا ناظم ان کا کہنا مانے اور سردار کو چھوڑ دے جبکہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے اور جن لوگوں پر ظلم ہو رہا ہے وہ ان کے حق کی بات کرتے ہیں۔ علی اصغر بنگلزئی اور حافظ سعید کے رشتہ دار اور بچے کوئی سات ماہ سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں لیکن ان کی کوئی سنوائی نہیں ہو رہی۔ ان لوگوں نے بھوک ہڑتال گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے اور بلوچستان اسمبلی کے سامنے مظاہرے تک کیے ہیں۔ اس سلسلے میں کوئٹہ میں انسانی حقوق کی تنظیم کے نائب چیئرمین ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس صورتحال کو انتہائی خطر ناک قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت آئنی اور قانونی طریقے سے معاملات چلائے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے اس بارے میں کہا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے مشکوک افراد سے تفتیش کی جاتی ہے اور بے گناہ لوگوں کو رہا کر دیا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ تمام قانونی اور آئینی ضروریات اس سلسلے میں وری کی جاتی ہیں اور جہاں ضرورت ہوتی ہے عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے۔ رازق بگٹی نے کہا کہ ایسا بھی ہوا ہے کہ الزام حکومت پر لگایا جاتا ہے اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ موصوف جہاد میں حصہ لینے کے لیے طالبان کے ساتھ تھے اور پھر خود واپس آ جاتے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچ استاد حراست میں ہلاک22 April, 2006 | پاکستان بلوچ ویب سائٹوں پر پابندی27 April, 2006 | پاکستان بلوچ رہنما ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر30 April, 2006 | پاکستان برطانیہ میں پاکستانی فوج کے خلاف مظاہرہ30 April, 2006 | پاکستان بلوچی ٹی وی کا ایم ڈی لاپتہ11 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||