BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مفاہمت کا کوئی امکان نہیں: مینگل
سردار عطاللہ مینگل
’ہم تو ہتھیار نہیں اٹھا رہے بلکہ گردن پیش کر رہے ہیں‘
بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ سردار عطاللہ مینگل نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا رویہ مست ہاتھی جیسا ہے جو ہر چیز کو روند دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مشرف کے ہوتے ہوئے مفاہمت کا کوئی امکان نہیں ہے‘۔

سردار عطا اللہ مینگل نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو ایسے ہی ہے کہ ’ایک آمر ہو جس کے پاس فوج کی طاقت ہو، جسے امریکہ کا آشیرباد حاصل ہو، بنیاد پرستی سے نمٹنے کے نام پر ہتھیار مل رہے ہوں اور آزمائش کے لیئے ایک ایسا یتیم خطہ ہو جسے آج تک پوچھنے والا کوئی نہ ہو‘۔

سردار عطاللہ نے کہا کہ ’موت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے لوگ خوشی سے گلے لگائیں لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو جان سے پیاری ہوتی ہیں، جب بات وہاں تک پہنچ جائے تو جان کی پرواہ نہیں رہتی‘۔ انہوں نے کہا کہ اب ہماری زیست کا مسئلہ ہے، ہماری قومی بقا کا مسئلہ ہے، ہمارے کلچر کا مسئلہ ہے، ہماری تاریخ کا مسئلہ ہے، ہمارا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے‘۔ ’اس صورت میں موت اتنی بھیانک نظر نہیں آتی‘۔

ہم کیا کریں؟
 ’یہ تو بعد کی بات ہے کہ مشرف پر راکٹ برسائے گئے لیکن آپ یہ دیکھیں کہ نوبت وہاں تک پہنچی کیوں، ان کے ساتھ ہمارے سیاسی سطح پر مذاکرات ہوئے تھے، ان کے با اعتماد لوگ آئے تھے جنہوں نے کہا تھا کہ پارلیمان میں کمیٹیاں بنیں گی، پھر یہ ہوا کہ مشرف صاحب نے سب کو روند دیا، ہم کیا کر سکتے ہیں اس میں‘
مینگل
سردار مینگل نے کہا کہ ’جس دن سے ہم پاکستان میں آئے ہیں، جس دن سے ہمیں پاکستان میں گھسیٹا گیا اسی دن سے یہ ہمارا مقدر بن چکی ہے‘۔

ان سے سوال پوچھا گیا کہ آپ کی باتوں سے بغاوت کی بو آتی ہے، کیا آپ پاکستان سے الگ ہونا چاہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہم پاکستان سے الگ تھے، ہمیں اس میں شامل کیا گیا، ہم نے اسے مقدر سمجھ کر کوشش کی کہ حالات سے سمجھوتہ کریں، ایک بار نہیں کئی بار کوشش کی لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں ہر موڑ پر اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیئے قسم کھانی پڑے گی ان کے سامنے، اب قسم کھاتے کھاتے ہم بھی تھک گئے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اب جو کچھ کرنا ہے ان کو کریں، ان کا گزارا نہیں ہوتا ہمارے ساتھ تو نہ کریں، اب اسی پر انہوں نے اکتفا کیا ہے کہ ہمیں مار کر، ہمیں تباہ کر کے، ہماری ہر چیز اپنے تسلط میں لا کر انہیں تسکین ملے گی تو یہ ان کی منشا ہے، اب ہم نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو کچھ ان کو کرنا ہے کریں ہم ان کے سامنے جھکیں گے نہیں‘۔

’ہمیں گھسیٹا گیا‘
 ’ہم پاکستان سے الگ تھے، ہمیں اس میں شامل کیا گیا، ہم نے اسے مقدر سمجھ کر کوشش کی کہ حالات سے سمجھوتہ کریں، ایک بار نہیں کئی بار کوشش کی لیکن ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں ہر موڑ پر اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیئے قسم کھانی پڑے گی ان کے سامنے، اب قسم کھاتے کھاتے ہم بھی تھک گئے ہیں‘
مینگل
سردار عطا اللہ مینگل نے کہا کہ ہم نے اپنے مطالبات واضح طور پر ان کےسامنے رکھ دیئے تھے جس کے بعد ان کے نمائندے بھی ہم سے ملنے آئے اور اس کے بعد اس کا جواب انہوں نے توپوں سے دیا۔

صدر پرویز مشرف پر حملے اور صوبے میں فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں ایک سوال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’یہ تو بعد کی بات ہے کہ مشرف پر راکٹ برسائے گئے لیکن آپ یہ دیکھیں کہ نوبت وہاں تک پہنچی کیوں، ان کے ساتھ ہمارے سیاسی سطح پر مذاکرات ہوئے تھے، ان کے با اعتماد لوگ آئے تھے جنہوں نے کہا تھا کہ پارلیمان میں کمیٹیاں بنیں گی، پھر یہ ہوا کہ مشرف صاحب نے سب کو روند دیا، ہم کیا کر سکتے ہیں اس میں‘۔

مفاہمت کے امکان کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ’مشرف کے ہوتے ہوئے کوئی ایسی بات ہوگی‘۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کی قیمت پر کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی۔

ہتھیار اٹھانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ہم تو ہتھیار نہیں اٹھا رہے بلکہ گردن پیش کر رہے ہیں‘۔

اسی بارے میں
بگٹی اور مینگل پر پابندی
29 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد