بگٹی کی ہلاکت پر شدید ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی کئی سیاسی جماعتوں نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر حکومت کی مذمت کی ہے ارو شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بلوچ قوم پرست رہنما سردار اختر خان مینگل نے کہا کہ بلوچ نواب اکبر اور ان کے ساتھیوں کا خون معاف نہیں کریں گے۔ ’یہ بلوچ عوام کے لیئے بڑا سانحہ ہے جسے وہ کبھی نہیں بھلا سکتے اور نہ ہی ان کو بھولیں گے جنہوں نے یہ سب کیا ہے۔ پاکستان کے لوگوں کے ساتھ بلوچستان کے لوگوں کا جو بچا کھچا رشتہ، کچی ڈور تھی، جو انہوں نے پاکستانی عوام کے ساتھ باندھے رکھی تھی، آج کے سانحے نے اسے توڑ دیا ہے‘۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ پھر پنجاب کی بالادستی اور فوج کی انتہا پسندی نے اپنا زور دکھایا ہے اور یہ عمل گزشتہ اٹھاون برسوں سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی غلط سوچ ہے کہ اس سے بلوچ تحریک ختم ہوجائے گی۔ ’اس سے قبل نوروز خان کو شہید کیا گیا تھا، کیا مگر اس سے بلوچ تحریک ِختم ہوئی، بلکہ یہ تحریک اور منظٌم اور موثر ہوئی‘۔ اختر مینگل نے جو نواب اکبر بگٹی کے داماد جاوید مینگل کے بھائی ہیں بتایا کہ وہ قوم پرست جماعتوں سے رابطہ کر رہے ہیں اور جلد ہی نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائےگا۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت یا اے آر ڈی کے مرکزی رہنما امین فہیم نے کہا بگٹی کے ساتھ مذاکرات کی حکومتی کوششوں کے بارے میں انہوں نے کہا ’بات برابری کی بنیاد پر با عزت طریقے سے ہوتی ہے۔ جب آپ پہلے سے کسی کے خلاف کیس بنا کر بات کریں گے تو کوئی بھی غیرت مند شخص بات نہیں کرنا چاہے گا۔ بات باعزت طریقے سے ہوتی ہے۔ کیس بناکر بات کرنا مذاکرات کا رستہ بند کرنے کے مترادف ہے۔ہم اے آر ڈی کی ایمرجنسی میٹنگ کال کررہے ہیں۔ پھر ہم اپنا لائحہ عمل بنائیں گے‘۔ ایم ایم اے کے رہنما منور حسن نے کہا ’یہ ماورائے عدالت قتل ہے۔ اس سے پہلے بعض حکمرانوں نے اس طرح کا قتل عمد کیا تھا تو انہیں بھی پھر ایسے ہی انجام سے دوچار ہونا پڑا تو آج کے حکمران بھی سمجھ لیں کہ محض اس طرح اپنے دشمن سے نجات پانا، نجات کے زمرے میں نہیں آتا۔ انہیں بڑے پیمانے پر اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ یہ صرف ایک فرد کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ پوری قوم کو ہلا کر رکھ دے گا۔ فوج کا عوام کے سامنے آنا فوج کی شکست اور عوام کی فتح پر منتج ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا ’مردہ بگٹی زندہ بگٹی سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگا‘۔ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق نے کہا ’ یہ افسوسناک اور المناک ہے۔ ہم اکبر بگٹی کے اہل خانہ اور بلوچ عوام کے کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ محاذ آرائی ملک کے لیئے کسی طور بہتر نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں پاکستانیوں کا قتل عام انتہائی افسوسناک ہے اور اس اقدام سے بلوچستان میں فوج کے خلاف نفرت پیدا کی جارہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر نے کہا کہ ان کی جماعت بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کی ہمیشہ مخالف رہی ہے کیونکہ سیاسی معاملات کو بندوق کی نوک سے حل کرنے کی بجاے بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔ آج طاقت کے استعمال سے بھڑکنے والی آگ نے پورے بلوچستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے ملکی سالمیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ کے اس عظیم سانحہ پر پوری قوم نواب اکبر بگٹی کے خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے، اکبر بگٹی کے خلاف اس اقدام سے ان کو بلوچوں کی نظر میں شہید بنا دیا ہے اور تمام بلوچ اختلاف بھول کر حکومت کے خلاف متحدہ ہو گئے ہیں جس کا اشارہ بلوچ قوم پرست رہنما سردار اختر مینگل نے دیدیا ہے۔ | اسی بارے میں بگٹی اور مینگل پر پابندی29 April, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ18 June, 2006 | پاکستان مینگل کی جائیداد ضبطی کا حکم10 June, 2006 | پاکستان بلوچستان: حکومت کی ’نظرِ کرم‘26 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||