BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 August, 2006, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہ ایک سانحہ ہے، سیاسی جماعتیں

 پہاڑ
پہلے بھی مرکزی حکومت آپریشن کرتی رہی ہے اور بلوچ مزاحمت کار پہاڑوں میں پناہ لیتے رہے ہیں
پاکستان میں اپوزیشن کے دونوں بڑے اتحاد اے آر ڈی اور مجلس عمل نےبلوچستان کی صورتحال پر اپنے اپنے اجلاس طلب کر لیے ہیں جبکہ بعض دیگر سیاسی جماعتیں بھی موجودہ صورتحال پر غور کے لیے اپنی اپنی پارٹیوں کے اجلاس کر رہی ہیں۔


اے آر ڈی کا اجلاس پیر کواسلام آباد میں ہوگا جس کی صدارت پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم کریں گے۔

مجلس عمل کی سپریم کونسل کا اجلاس اتوار کو قاضی حسین احمد کی صدرات میں کراچی میں ہورہاہے۔

ٹارگٹ کلنگ1971 سی صورتحال
 فورسز کے ذریعے اپنے مخالف سیاستدانوں اور ملک کی اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کرکے سن انیس سو اکہتر جیسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے جب پاکستان کے دوٹکڑے ہوگئے تھے

پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے بلوچستان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک و قوم کے لیے ایک سانحہ قرار دیا ہے۔

اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر پریشان ہوئے ہیں اور انہی کی ہدایت پر مسلم لیگ کی سنیٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے جو اے آر ڈی کے اجلاس کے بعد ہوگا۔

اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ ’نواز شریف نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان اور سرحد کے قبائلی علاقوں کے حالات مذاکرات اور سیاسی عمل سے حل ہوسکتے تھے‘۔

اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ ’نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت پاکستان کی نقصان پہنچانے کی سازش کی ایک اہم کڑی ہے اور اب تمام جمہوری قوتوں کو متحد ہوکر کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ’ اپنی فورسز کے ذریعے اپنے مخالف سیاستدانوں اور ملک کی اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کرکے سن انیس سو اکہتر جیسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے جب پاکستان کے دوٹکڑے ہوگئے تھے‘۔

سازش کی ایک اہم کڑی ہے
 نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت پاکستان کی نقصان پہنچانے کی سازش کی ایک اہم کڑی ہے اور اب تمام جمہوری قوتوں کو متحد ہوکر کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا

مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’صدرجنرل مشرف نے اپنے ایک حریف سیاستدان کو طاقت کے ذریعے ہلاک کیا ہے یہ قابل مذمت بھی اور اس پر پوری قوم کو دکھ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے‘۔

مجلس عمل کے صدر نے کہا کہ ’فوج اپنا ہر معاملہ طاقت کے ذریعے حل کرنا جانتی ہے لیکن اپنے ہی ملک میں کیئے جانے والے اس قسم کے اقدامات کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں‘۔

پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے کہا کہ ’مستقبل کے لیے پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے خوفناک نتائج مرتب ہونگے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ملک میں تناؤ کی کیفیت ہے ان کے بقول کسی کے برائی پر مبنی مشورے پر یہ کارروائی کی گئی‘۔

اکبر بگٹی’مسئلہ حق کا ہے‘
’ہم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں‘
اکبر بگٹی کی ہلاکت
حکومت کی نئی پالیسی کا پہلا نشانہ؟
بگٹی پاکستانی اخبارات
’اکبر بگٹی کا پتہ سیٹلائٹ فون سے چلا ‘
ڈیرہ بگٹی ماضی، حال، مستقبل
برہمداغ اور آغا شاہد کو کون کون سی وزارتیں
بگٹیبدلتے رشتے
کل کے دشمن آج کےدوست ۔۔۔۔
اکبر بگٹی ’بگٹی کو بھاگنا ہوگا‘
اب تو اکبر بگٹی کو بھاگنا ہوگا: ڈی سی او
ڈیرہ بگٹیبگٹی قلعے میں
ایف سی چیک پوسٹ، نسوار اور بگٹی قلعہ
اسی بارے میں
بلوچستان کے ویرانوں میں
13 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد